قومی اور تہذیبی تعمیر میں علامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد کا اہم کردار

iqbal

شاعر مشرق علامہ اقبال اور امام ہند مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کو پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ کے شعبئہ اردو کے زیر اہتمام بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا.
اقبال و مولانا ابوالکلام آزاد کے افکار و نظریات پر بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علی عباس ،صدر شعبہ اردو نے کہا کہ اقبال خودی کوکسی مخصوص دائرے میں محدود نہیں کرتے بلکہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں خودی کی جلوہ نمائی دیکھنے کے خواہاں تھے، یہی وجہ ہے انہوں نے مسجد قرطبہ ، ذوق و شوق اور مکالمہ جبریل و ابلیس جیسی بہت ساری نظموں میں خودی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ فقط خودی کافی نہیں ہے جب تک کہ عشق نہ ہو، کیونکہ عشق ہی ہمیں عمل پر آمادہ کرتا ہے ،ڈاکٹر عباس نے مزید کہا کہ قوموں اور تہذیبوں کی تعمیر اسی خودی اور عشق کے ساتھ عمل پیہم سے ہوتی ہے ۔
صدر شعبہ نے اپنی افتتاحی تقریر میں مزید کہا کہ اقبال جہاں خودی کے شاعر تھے وہیں مولانا آزاد جذبہ بیداری کو لوگوں کے اندر بھرنا چاہتے تھے، تقسیم ہند کی مخالفت کرنا اور بنگلہ دیش کے قیام کی پیشین گوئی کرنا مولانا کی دور اندیش طبیعت کا نتیجہ تھا. در اصل یہ ابوالکلام آزاد کی رود اندیشی کا ہی نتیجہ ہے کہ انہوں نے جو قومی تعلیم کا نظریہ پیش کیا وہ آج تک باقی ہے اور ان کے بتائے ہوئے نکات پر موجودہ دور میں بھی عمل ہوتا نظر آرہا ہے۔

پروگرام کی صدر اور پنجاب یونیورسٹی کی سینئر سابق پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ پروین نے شرکت کرنے والے طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ اقبال وطن دوست شاعر تھے، وطن کی محبت ان کے دل میں موجزن تھی یہی وجہ ہے کہ ملک کی مشترکہ تہذیب اور ملک کی اہم شخصیات پر انہوں نے کافی گراں قدر نظمیں لکھی ہیں، ہمیں نیا شوالہ جیسی نظمیں یہی سیکھ دیتی ہیں کہ انسان کو پریم کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں اقبال پریم کا درس دیتے ہیں اور ملک کو پریم کے ساتھ ہی ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں.
شعبئہ اردو کی استاد ڈاکٹر زرین فاطمہ نے علامہ اقبال کی نظم”ایک آرزو کے ذریعہ طلباء کو اقبال کے پیغام سے روشناس کرایا.
پروگرام کی نظامت ایم اے اردو کے طالب علم راشد امین ندوی نے کی، اور پروگرام کا آغاز طالب علم خلیق الرحمن کے ذریعہ علامہ اقبال کے ایک منظوم کلام سے ہوا.
ریسرچ اسکالر محمد سلطان نے “اردوشاعری میں تلمیحات” اور ریسرچ اسکالر پپورام نے “علامہ اقبال اور خودی کا تصور” کے موضوع پراپنے مقالات پیش کیے.
طالب علم خلیق الرحمن نے ایک انشائیہ پیش کیا اور مشہور شاعر وجے اختر صاحب نے اپنے کلام کے ذریعہ حاضرین کے دلوں کو محظوظ کیا.
اخیر میں پروفیسر ذوالفقار نے اردو ادب کے اہم شعراء پر اجمالی روشنی ڈالتے ہوئے حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا.
جس میں طلباء کی ایک کثیر تعداد کے علاوہ مختلف علمی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی.
طلباء کرام نے علامہ اقبال کی مختلف نظموں اور مختلف غزلوں کے ذریعہ محفل کے حسن کو دوبالا کیا. جن میں بھرپور سنگھ، ودوشی چندیل، کارتک،ہرنیت کور، سابق آئی۔اے ایس آفسر سدیپ سنگھ، امرت پال، گروندر سنگھ، رمیہ، بل پریت، جے پی سنگھ، عاقبہ پروین کے نام قابل ذکر ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.