پورن فلمیں ’براہِ راست نشر‘کرکے کمارہے ہیں کروڑوں

ممبئی(آئی این ایس انڈیا) لاک ڈاؤن کے بعد او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور آن لائن تفریحی مواد میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس میں فحش مواد کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف طریقوں سے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے فحاشی پروسی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے ایسے گروہ کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کے ’ورکنگ اسٹائل‘ اور کمائی کو دیکھ کر پولیس کے بھی ہوش اڑگئے ہیں۔یہ گینگ سبسکرپشن کی بنیاد پر لوگوں کو فحاشی پیش کر رہا تھا۔ ہفتے میں ایک دن ایک ’قسط‘ تیار ہوتی تھی اور او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے طرزپر’اورجنل مواد‘ (فحش نگاری سے بھرپور) وہاں ڈالا جارہا تھا۔ یہ ایپ کے ذریعہ چلایا جارہا تھا۔

پولیس نے اس معاملے میں سات افراد کو گرفتار کیا ہے، ان میں اداکار بھی شامل ہیں۔خفیہ معلومات کی بنیاد پر پولیس کو چھاپے میں کئی صفحات کی اسکرپٹ، موبائل کیمرے، لائٹس اور دیگر تیاریاں ملی ہیں۔ اسکرپٹ میں فحاشی کے مکالمے والا پورا منظر بھی ایک ایک کر کے لکھا گیا تھا۔ یہیں پر ایک دن میں یہ عملہ ایک ہفتہ تک چلنے والی قسط کی شوٹنگ کرتا تھا۔ اس کیلئے کئی لوگوں کی ٹیم بھی کام کرتی تھی۔پولیس کو ابتدائی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ ایسے بہت سے مختلف ایپس پر مبنی پلیٹ فارم چل رہے ہیں۔ اس میں رکنیت کی بنیاد پر لوگ فحش مواد پیش کررہے تھے۔ نیز ان کے ارکان یا خریدار لاکھوں میں ہیں۔ اور ان کی کمائی کروڑوں میں ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے، جس سے اس تعداد میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ شوٹنگ ایک خاتون کے موبائل سے ہی کی جارہی تھی۔ جب پولیس چھاپہ مارنے پہنچی تو شوٹنگ چل رہی تھی۔ پولیس نے ایک خاتون کو بھی یہاں سے آزاد کرایا ہے۔ اس نے کہاکہ اسے یہاں ویب سیریز میں کام کرنے کا لالچ دیاگیا، جب وہ یہاں پہنچی توپتہ چلا کہ اس سے یہاں پورنوگرافی میں کام کرایا جائے گا۔

پولیس نے بتایا کہ انہیں ایسی 12 ایپس ملی ہیں جہاں یہ کام جاری تھا۔ ساتھ ہی جن لوگوں کو گرفتار کیاگیاان کے چینل کی سبسکرپشن 199 روپے ماہانہ ہے۔ اس کے لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں جن سے یہ لوگ دو کروڑ تک کما رہے تھے۔ تاہم عملے کاخرچہ بہت کم تھا۔ادھر دوسرفریق کا کہنا ہے کہ یہاں فحش فلم نہیں بنائی جارہی تھی۔ان کی صفائی ہے کہ یہ ایک’لواسٹوری‘ ہے، جسے شوٹ کیاجارہاتھا، محبت کی کہانی اور بولڈ فلم کے ساتھ پورن میں فرق ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بڑے پلیٹ فارمز پر بھی فحاشی ہے لیکن اسے وہاں کہانی کے بیچ میں دکھایا گیا ہے۔ جب کہ یہاں کچھ اور ہی شوٹ کیاجارہاتھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *