پروفیسر ولی اختر ندوی کے انتقال پرمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی کی تعزیت

asghar-ali

نئی دہلی: مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے شیخ الحدیث مولانا امان اللہ فیضی رحمہ اللہ کے دوسرے صاحبزادے، دہلی یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے مؤقر پروفیسر، عربی وانگریزی زبان میں متعدد علمی وادبی کتابوں کے مصنف اور عربی زبان وادب کے رمز شناس اور کامیاب معلم و مترجم ڈاکٹر ولی اختر ندوی صاحب کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی موت کو علمی وادبی دنیا کا بڑا خسارا قرار دیا ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند سے جاری بیان میں امیر محترم نے کہا کہ ڈاکٹر ولی اختر ندوی صاحب بڑے ہی نیک،خلیق وملنسار، متواضع، مخلص، سادہ طبع، غیرت دینی وملی سے سرشار اور متشرع انسان تھے۔آپ کا آبائی وطن بہار کے سیتامڑھی ضلع کی معروف بستی بھکورہر تھا۔ ابتدائی تعلیم یادگار سلف والد ماجد رحمہ اللہ سے حاصل کی، جو دہلی کے معروف دینی وتعلیمی ادارہ جامعہ ریاض العلوم اور بہار کے معروف دینی تعلیمی ادارہ جامعہ امام ابن تیمیہ میں شیخ الحدیث تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے عا لمیت و فضیلت کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں داخلہ لیا اور وہاں عربی زبان وادب میں بی اے، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگریوں سے سرفراز ہوئے۔ تدریسی سلسلہ کا آغاز جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے عارضی مدرس کی حیثیت سے کیا،پھر ۷۹۹۱ء ؁ میں مستقل طور پر دہلی یونیورسٹی میں لیکچرر ہوگئے اور جلد ہی مرحلہ وار ترقی کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدہ پر فائز ہوگئے۔ کئی مرتبہ صدر شعبہ عربی بھی بنائے گئے۔ دہلی یونیورسٹی کی کئی اکیڈمک کمیٹیوں کے رکن رکین بھی رہے۔ آپ کے زیر نگرانی بہت سے طلبہ نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے۔ آپ ایک کامیاب مدرس ومعلم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہمدرد اور صاف دل انسان بھی تھے۔ آپ نے عربی زبان و ادب کی تدریس کے لیے کئی تجربات کیے اور اس کے لیے عربی وانگریزی میں کئی کتابیں لکھیں جن میں تیسر الصرف، مارفولوجی میڈ ایزی، بیسک آف عربک، اے پریکٹیکل اپروچ ٹو دی عربک لینگویج اول، دوم قابل ذکر ہیں اور جن میں سے بعض یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہیں۔ آپ کی علمی وادبی خدمات کے اعتراف میں ۴۰۰۲ء میں سابق صدر جمہوریہ جناب اے پی جے عبدالکلام کے ہاتھوں صدر جمہوریہ ایوارڈ ”مہارشی بدراین ویاس سمان“ سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر صاحب زندگی کے مختلف شعبہ حیات میں مختلف حیثیتوں سے ممتاز رہے۔ مثلا ً آپ والدین کے بڑے خدمت گار، ذہین و ممتاز طالب علم، اساتذہ کے محبوب نظر، مثالی استاذ، طلبہ کے چہیتے، گاؤں کے آنکھوں کا تارا، پڑوسیوں کے بہی خواہ، خویش واقارب کے پرسان حال، سماجی کاموں میں پیش پیش، غریبوں کے حاجت روا مگر ریا و نمود سے گریزاں، خرد نواز، دینی و ملی اور جماعتی غیرت و حمیت کا پیکر اور جامعہ ملیہ و دہلی یونیورسٹی جیسے ماحول میں بھی تقویٰ و طہارت اور سادگی کا نمونہ تھے۔ گو نا گوں منصبی ذمہ داریوں اور علمی وادبی ا ور تحقیقی مصروفیات کے باوجود مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے پروگراموں میں اکثر شریک ہوتے تھے۔ ادھرکئی دنوں سے بخار تھا اور سینے میں شدید انفکشن ہوگیا تھا۔دوروز قبل دہلی کے الشفا ہاسپیٹل کے آئی سی یو میں ایڈمٹ کیا گیا تھا۔ بالآخر گذشتہ کل شام ساڑھے چھ بجے بعمر ۲۵ سال داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور کل ہی بعد نماز عشا ابو الفضل انکلیو کے قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔پسماندگان میں اہلیہ، دو صاحبزادے اور دو صاحبزادیاں ہیں۔
اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس کا مکین بنائے، نیکیوں کو شرف قبولیت بخشے، پسماندگان،اخوان مولانا علی اختر مکی،جمیل اختر اور مولانا سہیل اختر ندوی صاحبان و جملہ خویش واقارب کو صبر سلوان کی توفیق بخشے۔پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے دیگر ذمہ داران و اراکین اورکارکنان نے بھی ڈاکٹر صاحب کے انتقال پر گہرے رنج وافسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا گو ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *