پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیکل سائنسزڈاکٹرسہیل سلیم مستعفی

sohail-saleem

کراچی(آئی این ایس انڈیا) تحقیقات سے قبل پہلی وکٹ گر گئی،پاکستان سپر لیگ سکس ملتوی ہونے اور بائیو سکیور ببل کی مبینہ خلاف ورزیوں پر الزامات اور اٹھنے والے سولات کے بعدپی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیکل سائنسز ڈاکٹر سہیل سلیم نے اپنے عہدے سے استعفےٰ دے دیاہے۔ڈاکٹر سہیل سلیم پی سی بی کی جانب سے بایو سیکیور ببل کے انچارج تھے۔پی سی بی آئندہ ہفتے سے آزادانہ تحقیقات کرائے گا۔غیر جانب دار ماہرین سے تحقیقات کراکر پی ایس ایل میں ہونے والی بدانتظامی کا جائزہ لیا گا تحقیقات کا اعلان پیر کوہونے کا امکان ہے۔پی سی بی کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر سہیل سلیم نے از خود استعفےٰ دیا ہے ان سے کسی نے استعفیٰ نہیں مانگا،نہ ہی پی سی بی نے کسی پرالزام تراشی کی ہے۔پی سی بی کے ترجمان نے پہلے ڈاکٹر سہیل سلیم کے استعفےٰ کی تردیدکی پھراستفسارپربتایاہے ہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے شعبہ میڈیکل کے سربراہ ڈاکٹر سہیل نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ڈاکٹر سہیل ایک ماہ کے نوٹس پریڈ کے دوران پی سی بی کی انکوائری میں تعان کریں گے۔ ڈاکٹر سہیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا فون بند تھا۔ڈاکٹر سہیل پی ایس ایل میں بائیو سیکیور ببل کے معاملات پر تنقید کی زد میں تھے انہوں نے کراچی میں ہونے والی اس اہم میٹنگ میں بھی شرکت نہیں کی تھی جس میں بایو سیکیور ببل کو آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈکے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹر سہیل نے اپنا استعفیٰ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھجوادیا ہے، استعفیٰ پرچیئرمین احسان مانی اور سی ای او وسیم خان فیصلہ کریں گے۔ ابھی استعفیٰ منظور نہیں ہوا ہے لیکن ڈاکٹر سہیل ایک ماہ کام کریں گے جوکہ ان کا نوٹس پریڈ ہے اور اس دوران وہ تحقیقات میں بھی پیش ہوں گے امید ہے کہ وہ فیڈ بیک دے کر تحقیقات میں مدد کریں گے۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے یہ بات واضح کی ہے کہ یہ وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں ہے۔وسیم خان نے کہا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری تھی‘۔ انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہاہے کہ جو بائیو سکیور ببل میں تھے ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اس پر مکمل عمل کرتے۔ اس بارے میں مکمل تحقیقات ہوں گی کہ بائیو سکیور ببل کی خلاف ورزی کیسے اور کس نے کی؟ انھیں اس بات کی توقع تھی کہ فرنچائز مالکان کی جانب سے یہ ردعمل سامنے آئے گا۔ انھوں نے اسے جذباتیت کا نام دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.