آن لائن جشن ریختہ  5 اور 6 ستمبر کو

Collage-Post-1500-X-800

جشن ریختہ آن لائن کلچرل فیسٹیول 5سے 6 ستمبر کو منعقد ہوگا۔ فیسٹیول کو اس سال لندن میں منعقد ہونا تھا لیکن کوویڈ۔19کی پابندیوں کےسبب اسے آن لائن کردیا گیا ہے۔ اس دو روزہ آن لائن فیسٹیول میں 30 ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے اور اس دوران لگائے گئے تین اسٹیج پر 30مختلف سیشن منعقد ہوں گے جن میں ایک سو سے زائد ممتاز فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ پروگرام کےمطابق دو روزہ فیسٹیول میں موسیقی، شاعری، رقص، ڈرامہ، داستان گوئی، مباحثے و دیگر پروگرام شامل ہوں گے۔دنیا کے اس اردو کے بڑے فیسٹیول کو پہلی مرتبہ بھار ت سے باہر لندن میں منعقد ہونا تھا، تاہم کوویڈ ۔19 کے باوجود منتظمین نے فیصلہ کیا کہ فیسٹیول کو روایتی انداز میں آن لائن منعقد کیا جائے،

 

ریختہ فائونڈیشن کے بانی سنجیو صراف کا کہنا ہے کہ اردو زبان کی ہر صنف کو اجاگر کرنا میرا مقصد ہے اردو نے ہمیں شاعری، نثر ، فلسفہ، تہذیب سے مزین انداز گفتگو اور لازوال رومان دیا ہے، بد قسمتی سے ہم اس مرتبہ عملی طور پر لندن میں منعقد ہونے والے فیسٹیول میں شرکت تو نہیں کرسکیں گے۔ تاہم لندن اس تہوار کیی واضح منزل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ اور ویلز میں بولی جانے والی زبانوں میں اردو کو چوتھا درجہ حاصل ہے اور لندن میں بولی جانے والی زبانوں میں اردو تیسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ بہت جلد لندن میں عملی طور پر فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔ سنجیو صراف نے مزید کہا کہ اردو انتہائی خوبصورت زبان ہے جس میں محبت کے ہر پیرائے کا ا ظہارممکن ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون اسے بولتا ہے اس کا جادو ہمیشہ برقرار رہتا ہے اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ اس عالمی فیسٹیول کے ذریعے ہمیں موقع ملے گا کہ فن کاروں کی پرفارمنس کے ذیعے اردو کے جادو سے لطف اندوز ہوں۔

فیسٹیول کا اہتمام کرنے والی ریختہ فائونڈیشن یوکے کی مقامی آرگنائزر نبیلہ خان نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جشن ریختہ اردو زبان کی مکمل نمائندگی کرتا ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے جس میں گذشتہ 5 برس کے دوران لاکھوں افراد شرکت کرچکے ہیں۔ اس سال فیسٹیول آن لائن ہونے کا سبب دنیا بھر سے اردو سے محبت کرنے والے فیسٹیول کا حصہ بن سکیں گے۔ فیسٹیول میں پاکستان سے انور مقصود، ضیاء محی الدین اور ثانیہ سعید بھی شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیسٹیول اردو زبان کے فروغ کا سبب بھی بن رہا ہے فیسٹیول میں شرکت کرکے شاعری اور موسیقی سننے والوں میں اردو سیکھنے کی خواہش جاگی ہے۔

ریختہ فائونڈیشن کا ایک بڑامقصد یہ بھی ہے کہ نئی نسل کو اردو بولنا، پڑھنا اور لکھنا سکھایا جائے۔ اردو پڑھنے کیلئے متعدد آن لائن سہولتیں دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو ڈراموں میں فلموں سے بھی زبان کو فروغ مل رہا ہے۔ پاکستانی ڈرامے دیکھ کر مغرب میں رہنے والوں خصوصاً پاکستانیوں کی نئی نسل کو نئے الفاظ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیسٹیول میںتمام سیشن انتہائی دلچسپ ہوں گے۔ جو فن کار و شاعر اور ادیب حصہ لیں گے ان میں جاوید اختر، منوج فتاشر، ڈاکٹر اظہرہ رضا، آمنہ خاصخیلی، احتشام شاہد، ضیاء محی الدین، انور مقصود، یاور عباس،رضا علی عابدی، پرویز عالم، ثانیہ سعید، تنوجہ چندرا، نسرین منی کبیر، شیلپا رائو اور طلعت عزیز و دیگر شامل ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *