تمثیلی مشاعرے کا فن ہمیں شاعری کی روایت سے قریب کرتا ہے:شہپررسول

urdu

اردو اکادمی ،دہلی کے زیر اہتمام سینٹرل پارک ،کناٹ پلیس ،نئی دہلی میں چھ روزہ’ جشن وراثت اردو‘کے تیسرے دن سامعین کا پرجوش استقبال کرتے ہیں ۔اطہرسعید اور ریشما فاروقی کی آواز سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہاکہ محبت کے اس جشن بہار یعنی جشن وراثت اردو کے تیسرے دن بہت اچھے اچھے پروگرام پیش کیے جائیں گے اور آپ سب ان پروگراموں سے محظوظ ہوں گے ۔جشن وراثت اردو کے تیسرے دن سب سے پہلے دہلی کے اردو اسکولوں کے طلبا وطالبات نے ٹیلنٹ گروپ ،دہلی کے تحت ’قصہ اردو حروف والفاظ کا‘ پیش کیا۔اس پروگرام میں طلبا وطالبات نے ڈرامے کے ذریعے اردو حروف کی شناخت کے طریقے بتائے ۔اس پروگرام میں بھی دیگر پروگراموں کی طرح بلاتفریق مذہب وملت سامعین موجود تھے۔ہندوستانی نوجوانوں کا وہ بڑا طبقہ بھی موجود تھا ۔جسے اردو زبان کی شیرنی اپنی جانب راغب کرتی ہے اور وہ اردو کوسیکھناچاہتے ہیں ۔اس طرح کے پروگرام یقینا ان کے شوق کی تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں ۔اس کے بعد معروف گلوکار نعیم علی مرحوم کے نوجوان عمر کے صاحبزادے سیف علی خان ـ،دہلی نے محفل غزل کے تحت غزلیں پیش کیں ۔انہوں نے کافی اچھی غزلوں کا انتخاب سامعین کی سماعتوں کے حوالے کیا ۔سیف علی خان اپنی کم عمری کے باوجود فن کی مشاطگی کے لیے کافی سنجیدہ ہیں اور سامعین کوانہیں سن کر یہ محسوس بھی ہوا کہ آنے والے وقت میں غزل گائیکی میں وہ بڑا نام پیداکریں گے ۔محفل غزل کے بعد غلام صابر اور غلام وارث ،دہلی نے محفل قوالی پیش کی ،انہوں نے محفل قوالی میں اکثر وبیشتر پیش کیے جانے والے کلام ہی پیش کیے اور عوام لطف اندوز ہوئے ۔جشن وراثت اردو کے تیسرے دن کا سب سے اچھا پروگرام تمثیلی مشاعرہ تھا ،تمثیلی مشاعرے کا تعارف کراتے ہوئے اردو اکادمی ،دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپررسول نے کہاکہ تمثیلی مشاعرے کو دہلی میں کافی پسند کیا جاتا رہاہے ۔تمثیلی مشاعرے کا فن شاعری کی روایت سے مستحکم رشتے کی استواری کاسبب بنتاہے ۔اس مشاعرے کو باقی رکھنے کی ہمیں کوشش کرنی ہے ۔تمثیلی مشاعرے میں رہ کر اکثر میں سوچتا ہوںکہ کیا کردار ادا کرتے ہوئے یہ لوگ شعرا کی روح میں اترجاتے ہیں ،تمثیلی مشاعرے کی اہمیت وافادیت آج بھی مسلم ہے اور آئندہ بھی اس کی اہمیت افادیت باقی رہے گی ۔تمثیلی مشاعرے کی صدارت جگر مرادآبادی نے کی ،جگر مرادآبادی کی تمثیل استاذ اسداللہ نے اداکیا ۔احمدفرازکی اعظم غنی ،پروین شاکرکیسعدیہ فاطمہ ،بشیربدرکیمسرت علی،واقف مرادآبادی کیمسعودمفتی،نشورواحدی کی سراج عالم،کشورناہیدکی  ہداسیدہ،فنانظامی کانپوری کی قطب الدین واحدی،ساغرخیامی کی مبشرغوری،مجروح سلطان پوری کی عبدالحمید،شاہ جہاں بانویاد دہلوی کیسیماقدوائی،کیف بھوپالی کیسیدمحمدجاوید،زہرہ نگاہ کی نیازفاطمہ نے تمثیل پیش کی ۔ان شخصیات نے مذکورہ شعرا کے انداز ولباس میں ان کے کلام پیش کیے ۔تمثیلی مشاعرہ یوں تو کم ہوتا ہے مگر جب بھی ہوتا ہے ،عمومی طورپر اسے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ وطلبا ہی پیش کرتے ہیں اور اس مشاعرے کو سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے ہیں ۔اس تمثیلی مشاعرے میں نوجوان نسل خاصی دلچسپی لیتی ہے ۔نوجوان نہ صرف تمثیلی مشاعرے سنتے ہیں ۔بلکہ وہ ان کرداروں کو دیکھ کر خود میں بھی کسی بڑے شاعر کو تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں ۔جشن وراثت اردو کے تیسرے دن کا آخری پروگرام شام غزل کے طورپر جسوندرسنگھ ،ممبئی نے نوجوانوں کے ہجوم میں پیش کیا ۔اس موقع پر اردواکادمی کے سکریٹری ایس۔ ایم ۔علی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہاکہ مجھے نوجوانوں کی بھیڑ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے کہ ہندوستانی زبان وادب کی پسندیدگی کسی سرحد تک محدود نہیں ہے ۔ہندوستانی جمہوریت کی یہ شان آن بان ہمیشہ باقی رہے گی ۔میں تمام سامعین ،معزز مہمانوں اور نوجوانوں کا شکر گزار ہوں کہ آپ سب نے شرکت کرکے پروگرام کو کامیاب بنایا ۔یاد رہے کہ یہ جشنِ وراثتِ اردو کے پروگرام ۲۰؍فروری تک چلتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *