کووڈ-19 کے درمیان صوفی سنت امیر خسرو کی 716 ویں برسی پر ریختہ کا صوفی نامہ ورچوئل عرس منعقد کرے گا

ameer-khusrau

• حضرت امیر خسرو کا 716 واں عرس 11 جون کو آن لائن منایا جائے گا کیونکہ درگاہ حضرت نظام الدین اولیا ان دنوں زایرین کے لئے بند ہے – ایک ایسی جگہ جہاں سے ساری دنیا قوالوں کو دیکھتی ہے ،جو ایک ساتھ مل کر ان کے کلام کو موسیقی کےساتھ پیش کرتے ہیں اور عرس کو مناتے ہیں۔

• آن لائن عرس کی تقریب میں ہندوستان کے مختلف گوشوں سے 15 سے زائد نامور قوال شامل ہوں گے اور عظیم صوفی بزرگ کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔

اس ہفتے امیر خسرو کا 716 واں عرس منایا جائے گا، جو مشہور اور مقبول صوفی شاعر تھے۔ ہر سال دنیا بھر سے قوال ، ایک ساتھ مل کر ان کے کلام کو موسیقی کےساتھ پیش کرتے ہیں اور دہلی کے قلب میں واقع حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر عرس کا اہتمام کر تے ہیں۔

sufinama

صوفی ، اور دہلی کے حضرت نظام الدین اولیا کے شاگرد ، امیر خسرو فارسی زبان کے ماہر تھے اور اس میں اکثر اپنی شاعری کہتے تھے۔ چودہویں صدی کے مشہور شاعر نے ہمیں پڑھنے اور گانے کے لیے اپنی داستان رقم چھوڑ ی ، جب کہ وہ 72 سال کی عمر میں جنت نشیں ہوگئے ، حضرت نظام الدین اولیا کی عدم موجودگی سے نمٹنے میں ناکام رہے ، جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔

sarraf
اپنے عہد کے عظیم بادشاہوں کے درباری ہونے کے ناطے ، ان کی صلاحیتوں کا مقابلہ شاید ہی کبھی کیا جاتا تھا۔ اس کا کام ، بنیادی طور پر فارسی میں برج کے کے ساتھ ، ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کے سروں کوخوبصورتی سے سرایت کرناتھا۔ متعدد داستانیں ستار اور طبلہ جیسے موسیقی کےساز کے موجد کی حیثیت سے ان کا احترام کرتی ہیں۔ ان کے الفاظ میں جادو خسراؤ نے بنے ہوئے صوفی میوزک اسلوب کی پیدائش کی وجہ تھی ، جیسا کہ اس دور کے علما نے نقل کیا ہے۔ آج ، وہ اپنے مزار میں خاموش آرام کر ر ہےہیں ، خوشبودار گلاب کی پنکھڑیوں اور آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چادروںیں ڈھکے ہوےہیں ، جن کو دہلی کے قلب میں واقع درگاہ میں اپنے پیارے ، حضرت نظام الدین اولیا کے بالکل قریب رکھا گیا ہے۔

urs

صوفی نامہ(sufinama.org) ، 400 سالوں پر مشتمل صوفی تصنیف اور فلسفہ کے تحفظ اور تبلیغ کے لئے ریختہ فاؤنڈیشن کا اقدام ہے۔امیر خسرو کے 716 ویں عرس کے آن لائن جشن کا اہتمام کیا ہے تاکہ ان کےپیروکار اور مریدین ان تقریبات سے محروم نہ رھیں۔ حضرت نظام الدین اولیا درگاہ میں ہر سال پورے شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوتا ہے۔

تاہم ، اس سال درگاہ کمیٹی (آزادی کے بعد پہلی بار) کوویڈ 19 وبائی امراض کے درمیان سماجی فاصلاتی اصولوں کو برقرار رکھنے کے لئے 30 جون تک مزار کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوفی نامہ حضرت امیر خسرو کے کام کا سب سے بڑا آن لائن مجموعہ بھی فراہم کرتا ہے اور ان کےفارسی غزلوں کا ترجمہ فراہم کرتا ہے۔

urs-amir
اس ورچوئل جشن کے لئے ، صوفی نامہ نے نامور قوالوں کو ای-دعوت دی ہے تاکہ وہ براہ راست ا پنے فن کا مظاہرہ کریں اور عظیم صوفی بزرگ کو خراج عقیدت پیش کریں۔ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے مختلف مقامات کے 15 سے زائد قوالوں ، جیسے آگرہ ، بھوپال ، دیوا شریف ، لکھنؤ ، جے پور ، وغیرہ کے لوگ اس دلی ای میلے میں شریک ہوں گے۔ عشق اور ثقافتی ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے کے مقصد سے ، ای عرس کا آغاز اسی قول سے ہوگا جیسے سالوں سے درگاہ میں ہوا ، اور رنگ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔

urs-amir-khusro
اس پہل پر اظہار خیال کرتے ہوئے ، بانی ریختہ فاؤنڈیشن سنجیو صراف نے کہا ، ” دنیاامیر خسرو کی مقروض ہے – ایک صوفی فلسفی ، موسیقار ، شاعر اور اسکالر ، جس نے غزل کے انداز کو بھی گلوکاری سے متعارف کرایا۔ورچوئل عرس کا جشن ریختہ کا ہے اورصوفیانہ کےعظیم صوفی سنت کو ان کی 716 ویں برسی منانے کے لئے خراج تحسین پیش کرتا۔

فنکاروں میں سے کچھ راجو مرلی ، لیجنڈری مرلی قوال کے بیٹے ، حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے وارثی برادران، دانش حسین بدایونی ، اففان وارثی ، شاہد نیازی اور غلام وارث قوال شامل ہیں۔ آن لائن پروگرام میں پروفیسر اخلاق آہن کی گفتگو کا بھی مشاہدہ ہوگا جو خسرو اور داستان گو سید ساحل آغا کے بارے میں سامعین کو متعارف کرایں گے جو بعد میں حضرت امیر خسرو کے داستانیں بیان کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *