مشہور شاعر اور نغمہ نگار شکیل اعظمی کے شعری مجموعہ ”بنواس“کا آن لائن رسم اجرا

bahrain

”مجلس فخر بحرین برائے فروغ اردو“ کے زیر اہتمام ہندستان کے مشہور و معروف فلم نغمہ نگار اور شاعر شکیل اعظمی کے ساتویں شعری مجموعہ ”بنواس“ کا رسم اجرا عمل میں آیا۔شعری مجموعہ ”بنواس“ کے آن لائن رسم اجرا کی محفل میں ہندستان،پاکستان،بحرین، قطر کی مشہور شخصیات نے شرکت کی اور اپنی قیمتی آرا سے بھی نوازا۔شکیل احمد صبرحدی نیاستقبالیہ پیش کیے اورنظامت کے فرائض مجلس کے مشیر اعلیٰ عزیز نبیل نے انجام دئیے۔
مجلس فخر بحرین کے بانی و سر پرست شکیل احمد صبرحدی نے ”بنواس“ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں جنگل اور انسان کے لازوال تعلق کو مختلف استعارات، تلمیحات، مذہبی روایات اور دیو مالائی حکایات کی مدد سے اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ تعلق قدیم تر ہوتے ہوئے بھی جدید تر لگتا ہے۔”بنواس“کی شاعری ایک ایسی تخلیقی بیانیہ ہے جو حیرت انگیز ہے،معنی خیز ہے،اور نئے شعری منظرنامے کے لیے بہت دلکش اور دل آویز ہے۔اس کے ساتھ ہی صبرحدی صاحب نے مجلس فخر بحرین کی کارگردگی پر بھی روشنی ڈالی۔
شعری مجموعہ ”بنواس“کے مصنف شکیل اعظمی نے اپنی اس خوب صورت تخلیق سے متعلق اپنے تجربات و مشاہدات کا ذکر کیا اورمجلس فخر بحرین کی مدد و معاونت کے لیے شکریہ ادا کیا جس کی کوششوں سے یہ کتاب شائع ہو سکی۔واضح ہو کہ شکیل اعظمی کی اب تک اردو اور ہندی زبان میں سات شعری مجموعے شائع ہو کر ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔”بنواس“سے چند کلام بطور نمونہ درج ہے:
رام کو جو ملا بنواس غلط تھا لیکن
کوئی راجا کبھی مجبور بھی ہو سکتا ہے

ضد پہ اڑ جائے جو روٹھی ہوئی سوتیلی ماں
باپ بیٹے سے بہت دور بھی ہو سکتا ہے

یہ جو بنواس تھا یہ کھیل حکومت کا تھا
اور اس کھیل میں ہر داؤ سیاست کا تھا

ہندستانی فلم انڈسٹری کے مقبول شاعر،نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹرجاوید اخترکی بحیثیت مہمان خصوصی شرکت نے اس پروگرام و پر وقار بنایا۔ موصوف نے شکیل اعظمی کے مجموعے کو اردو ادب کا ایک اہم اضافہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس مجموعے میں جو خاص بات ہے وہ یہ کہ انسان اور جنگل کے رشتے کو جس طرح غزلوں اور نظموں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے یعنی شہر میں جنگل ہے اور جنگل میں شہر ہے،انسان میں جنگل ہے اور جنگل میں انسان ہے،وہ قابل داد ہے۔ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ یہ کتاب کوئی ماحولیات کو محفوظ رکھنے کا صحیفہ نہیں ہے بلکہ شاعر جنگل میں زندگی کو دیکھ رہا ہے،جنگل میں انسان کو دیکھ رہا ہے،شہر کو دیکھ رہا ہے،اس لیے یہ اہم صحیفہ ہے۔اس تخلیق میں نئی آواز،نئی بازگشت سنائی دیتی ہے،جو عشق و عاشقی اورمعاشی معاملات جیسے موضوعات سے ہٹ کر روایت سے بغاوت کرتے ہوئے ایک نئے موضوع کو ترجیح دی گئی ہے۔
نقاد،ادیب پروفیسر شافع قدوائی، علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی نے ”بنواس“ پر مدلل اور تفصیلی روشنی ڈالی اور بنواس کو اردو شاعری میں ایک نیا تجربہ قرار دیا۔رامائن جو کہ ایک مشہور داستان ہے۔ اردو میں اس کے بہت سے منظوم تراجم موجود ہیں لیکن شکیل اعظمی صاحب نے رامائن کے ایک ایک کردار مثلاً ارمیلا،لکشمن، رام،بھرت وغیرہ کے کرداروں کے ذریعہ رامائن کو بحسن خوبی پیش کیا ہے۔ساتھ ہی موضوعات، زبان و بیان اور اردو ادب میں مقام و انفرادیت پر بھی گفتگو کی۔

پروفیسر کوثر مظہری، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ”بنواس“ پر روشنی ڈالتے ہویے کہا کہ آج کا شاعر جنگل یا رامائن کے کرداروں کو کس طرح دیکھتا ہے اس پس منظر میں اگر شکیل اعظمی صاحب کا کارنامہ دیکھا جائے تو ان کا جو اختصاص ہے وہ سب سے منفرد ہے اور یہی وہ انفرادیت جو انہیں دیگر تخلیق کاروں میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔
آن لائن مذاکرہ تقریب میں بحیثیت صدر موجود، عہد حاضر کے مشہور شاعرامجد اسلام امجد نیاپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب نے ایک پل کا کام کیا ہے۔ اس کی وساطت سے ہمیں اپنا قدیم ماضی،گزرے ہوئے ماضی، حال اور کہیں کہیں تھوڑا مستقبل بھی ایک ساتھ چلتے ہوئے نظر آتا ہے جو کہ ایک مشکل ترین کام تھا،جس کے لیے شکیل اعظمی داد و تحسین کے مستحق ہیں۔اور اخیر میں مجلس فخر بحرین کی خدمت میں ہدیہ? تشکر پیش کیا جو اس مشکل دور میں بھی جب انسان اپنے گھر کی چاردیواری میں مقید ہے، لوگوں کو جوڑنے اور عمدہ تحریریں پڑھنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔
عزیز نبیل نے اس کتاب پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان سے جنگل کا جو رشتہ ہے،بنواس کی اساس میں جو مقاصد ہیں،یعنی ماضی کی بازیافت،ماضی کے ہمارے استعارات،تلمیحات کے ذریعے نئے زمانے کے مطابق ان پر گفتگو کرنا یہ ساری چیزیں بنواس کا حصہ ہیں۔ہمارے عہد کے مقبول و معروف،محبوب شاعر عباس تابش نے بھی اپنی قیمتی رائے اس مجموعے سے متعلق پیش کیں۔تقریب میں شرکت کرنے والی تمام شخصیت نے شکیل اعظمی کو اس منفرد شعری مجموعے کے لیے مبارک با د پیش کی۔تقریب کے اخیر میں مشہور صحافی،کالم نگار آصف اعظمی نیمہمانان وناظرین کے شکریہ کے ساتھ محفل کے اختتام کا اعلان کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *