ماں: میری امی…

shauq-purnavi

شفقت،رحمت، رفت، ہم دردی، محبت، خلوص، وفا، پیار، نرمی،ایثار، مروت اور غم گساری کو مجسم شکل دی جائے تو وہ بالکل ماں جیسی ہوگی، کیوں کہ آج کے اس قحط خلوص کے دور میں بھی اک ماں کا ممتا اور خلوص ہی ہے، جو ہر طرح کی ملاوٹ سے پاک ہےـ کیوں کہ جس دور میں پانی کی بوتلوں پر بھی pyure drink water اور शुध्द पेय जल جیسے الفاظ لکھنے پڑتے ہیں اس دور میں خلوص کا معیار کیا ہوگا اس کا اندازہ ہرذی حس کو ہے… اس دور میں بھی کٹھنائیوں اور پریشانیوں سے بے فکر ہوکر ایک بیوہ کا لاک ڈاؤن جیسی صورت حال میں ہزاروں کیلو میٹر دور پھنسے بیٹے کو لانے کے لیے اسکوٹی پر تنہا سفر کرنا اور وہ بیٹے کو لے کر گھر پہنچ جانا . یہ انتہائی حیرت میں ڈالنے والی بات ہے…اور اسی ہندوستان کا واقعہ ہے جہاں عورت تنہا دوچار کیلومیٹر کے سفر کے لیے سینکڑوں بار سوچتی ہے، چونکہ قدم قدم پر انسانی بھیڑییے اور عصمت و عفت کے لٹیرے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں ،وہاں ایک عورت کا ہزاروں کیلو میٹر کا سفر اپنے بیٹے کے لیے حیران کن تو ہے ہی نا…
یہ بات اسلامی ممالک اور دیگر ممالک کے لیے حیران کن نہ سہی ہندوستان جیسے ملک کے لیے تو ضرور ہے… اورایسی خبر کسی باپ کے متعلق اب تک نہیں آئی ……….
خیر……
دنیا کی ہر زبان اور ہر ادب میں ماں پر مختلف زاویوں سے بہت زیادہ لکھا اور بولا گیا…. اور اب بھی بے تحاشہ لکھا جارہا ہے ،…….
اور لکھا بھی جانا چاہیے چونکہ یہ ماں کا حق ہےکہ اس پر خوب لکھا اور بولا جائے اور صرف لکھا پڑھا اور بولا ہی نہ جائے بلکہ اس کو اس کا مقام دیا جائے،اس کی توقیر لازمی کی جائے، اس کی تعظیم اپنے اوپر فرض کی جائے اور اس کے لیے وہ کیا جائے جس سے اس کی ممتا خوش ہو…..
مگر مجھے آج صرف اپنی ماں پر خامہ فرسائی کرنی ہے، ماں سے جڑے کچھ واقعات ہیں جن کو لکھنا میں اپنے لیے ضروری سمجھتا ہوں….
آج سے تقریبا ۱۹ سال پہلے کی بات ہے، جب میں اپنی عمر کی ساتویں دہلیز پر تھا، ایک دن کسی بہانے سے اسکول چھٹی لر کر آگیا، امی نے ڈانٹا تو مجھے ضرور مگر مارا پیٹا نہیں …..
امی نے کہا: تو ایک کام کرو! کھیت میں مزدور ہیں، ان کو چائے پانی دے کرآؤ! میں کچھ جواب دییے بغیر کھیلنے چلاگیا، اور میرے ساتھ ایک اور لڑکا بھی تھا وہ بھی میرے ساتھ کھیلنے لگا،اس کی ماں نے دیکھا تو بہت غصہ ہوئی اور بجائے اپنے بیٹے کو کچھ کہنے کے،مجھ پر بگڑنے لگی ،امی کو اس بات پر بڑا غصہ آیا، اور میری پٹائی کردی…..خیر …. تھوڑی دیر کے بعد میں چائے پانی لے کر کھیت چلا گیا وہاں سے دوپہر کے وقت لوٹا تو ماں کی آنکھیں لال اور سوجی ہوئی تھیں، میں نے حیرت سے پوچھا امی کیا ہوا، کیوں رو رہی ہیں، انہوں نے کچھ بتایا تو نہیں جلدی جلدی ہاتھ پاؤں دھلاکر کھانا کھلایا، ….اس واقعے کو دو دہائی گزر چکے ہیں، اب بھی میری امی اس کو یاد کرکے روتی ہےـ

کچھ ماہ پہلے اسی کھجورکے درخت نیچے امی ابو میں اور بہن سب بیٹھے کچھ بات کررہے تھے کہ امی کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے ..میں سمجھ نہ سکا کہ یہ کیا ماجرا ہے .. بعد میں ذہن پر زور دینے کے بعد یاد آیا. اوہ…یہی جگہ تھی جہاں میری دھلائی ہوئی تھی، میں نے کہا: امی اس بات کو ایک زمانہ گزر چکا ہے پھر بھی آپ نے اس کو یاد رکھا ہے،کہنے لگی: جب جب مجھے وہ بات یاد آتی ہے تب تب بدن پر عجب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے… اود بہت دیر تک آنسو نہیں رکتا….. یہ ہے میری امی ..
ایک دوسرا واقعہ بیس سال کے بعد کا ہے، ابھی پانچ چھ ماہ قبل میں نے کچھ پیسے امی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے، امی کو فی الوقت بتانا بھول گیا ،بعد میں امی کو بتایا تو وہ بینک جا نہ سکی اور قریب کے اک جانکار سے جو اپنے اکاؤنٹ سے پیسے لین دین کرتا ہے، اسکو پاس بک دیا کہ پیسے نکال دو، لنک فیل تھا پیسے نہیں نکلے ،پھنسے رہ گئے، یا کچھ اور ہوا….خیر … امی کو بتایا گیا کہ پیسے نہیں آئے، اور پھر میں ایک مہینے کے بعد گھر گیا تو میں نے اس بابت پوچھا: تو امی نے بتایا کہ پیسے تو نہیں آئے مجھے تشویس ہوئی، دوکاندار سے پوچھا تو وہ انکاری ہوگئے، بینک گیا تو وہاں بھی کچھ سمجھ میں نہ آیا، کسٹمر کئیر سے رابطہ کیا تو وہاں بھی مایوسی ہاتھ آئی ،پھر یہ سوچ کرکے کیا کیا جائے جوہوا سو ہوا، چھوڑ دیا …….اور امی یہ سوچ کر کچھ نہیں بولی کہ ہوسکتا ہے، پیسے ہی نہ لگائے ہوں، اور وہ جانتی ہے کہ مجھ سے اگر کام نہیں ہوا تو چپی سادھ لیتا ہوں ، اور انسان کے چہرے کو ماں سے زیادہ کون پڑھنا جانتی ہے…. سو وہ کچھ بولی نہیں….

پھر ایک مہینے کے بعد امی بینک گئی اور چیک کروایا تو پیسے آئے ہوئے تھے اور گڑبڑی اسی دوکاندار سے ہوئی تھی ….. جس وقت اس کو معلوم ہوا اس وقت سے لے کر اگلے دن میری کال کرنے تک پریشان تھی کہ بچہ کو کتنی تکلیف ہورہی ہوگی، میری چاروں بہنوں کو فون کرکے بتایا کہ، بچہ کتنی محنت سے کماتا ہے، وہ کتنا پریشان ہوا ہوگا… اور رات بھر افسوس کرتی رہی،اس دوران میرا موبائل لائٹ کی پروبلم کی وجہ سے بند تھا،صبح صبح چھوٹی بہن کی کال آئی کہ امی سے بات کرلیجیے بہت پریشان ہے،ارے کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہے؟ وہ آپ پیسے لگائے تھے نہ وہ مل گئے، مجھے حیرت و استعجاب کے ساتھ خوشی ہوئی کہ پیسے مل گئے ،چلو اب بھی بھرم قائم ہے…ورنہ امی نے تو یہی سوچا ہوگا میں نے پیسے ہی نہیں ٹرانسفر نہیں کیے …پھر پوچھا: پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے، پھر انہوں نے واقعہ سنایا. یہاں بھی غلطی میری اور پریشانی امی کو .. ….یہ ہوتی ہے ماں…..

میرے والدمحترم بڑے کفایت شعار واقع ہوئے ہیں، وہ والدہ کو اتنے ہی پیسے دیتے ہیں جتنے کی ضرورت ہوتی ہے،اور پھر اس کا حساب لیتے ہیں، آج تک میرے لیے یہ عجوبہ ہے کہ میری والدہ اتنے کم پیسوں میں مجھے ہر ماں پابندی سے کیسے بھیج دیتی تھی، اب بھی والدہ اسی طرح سفر پر نکلتے وقت پیسے جیب میں ڈال دیتی ہے جیسے زمانہ طالب علمی میں ڈال دیا کرتی تھی، ……
میں نے عام حالت میں اپنی والدہ کو بڑی صابرہ و شاکرہ پایا اور خوشی و غم کی ہر حالت میں اس کو ہنستے مسکراتے دیکھا، اور اس کے چہرے پر وہ فطری مسکان ہمیشہ دیکھی جو ہر عورت میں ہوتی ہےمگر آج سے چار سال قبل ایک سال کے فاصلے سے ۶ سالہ بھائی اور ۱۴ سالہ بہن کی حادثاتی وفات نے ہمیشہ کے لیے امی کے چہرے سے ہنسی کی بہار چھین کر اس پر خزاں ثبت کردی ، بہن کے انتقال کےبعد امی کہنے لگی،بیٹا! تم لوگوں کی پرورش میں اچھے برے، نشیب و فراز اور عشرت و عسرت ہر طرح کے دن دیکھے ہیں، مگر میرا حوصلہ کبھی نہیں ٹوٹا تھا .مگر آج کلیجہ چور چور ہوگیا ….. وہ دن ہے اور آج کا دن.. پھر ماں کی کے چہرے پہ وہ فطری مسکراہٹ کبھی نہیں آئی …….
یوں کہ سکتے ہیں، کہ ماں کے چہرے پر بہار اولاد ہی لاتی ہے اور اولاد ہی بہار چھین کر خزاں ثبت کرتی ہے ..

رائٹر:شوق پورنوی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *