راشد امین ندوی کے شعری مجموعہ’شکستہ پر‘ کا اجراء

shikasta

الجامہ میوات کیمپس میں ہریانہ ساہتیہ اکادمی کے مالی تعاون سے شائع راشد امین ندوی کی کتاب” شکستہ پر” کی رسم اجراء تقریب کا انعقاد ہوا۔پروگرام کا آغاز یوسف حیدر ندوی کے ذریعہ تلاوت کلام پاک سے ہوا، اور اس کے بعد نعت پاک محمد مستقیم ندوی نے پیش کی۔رضوان خان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں سلام پیش کیا۔

پروگرام میں بطور صدر ڈاکٹر نصیر الدین ازہر صاحب نے شرکت فرماتے ہوئے اپنے نیک خیالات کا اظہار کیا اور کتاب کے بارے میں فرمایا کہ وقتاً فوقتاً راشد امین جیسی علمی و ادبی کاوشیں منظر عام پر آنی چاہیئں اور راشد امین ندوی میوات کے قابل نوجوانوں میں سے ایک ہیں تقریری و تحریری مقابلوں میں صوبائی و نیشنل لیول پر اول آتے رہے ہیں، نثر و نظم میں لکھنے کی یکساں قدرت رکھتے ہیں اور راشد امین کی اس کاوش کے ذریعہ بہت سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور ایسی بہت سی تخلیقات مستقبل میں منظر عام پر آئیں گی. بطور مہمانِ خصوصی شریک رہے جناب وکیل احمد صاحب ایس ڈی ایم ہتھین نے کہا کہ میواتی نوجوانوں میں قابلیت کی کوئی کمی نہیں ہے بس انہیں صحیح راہ دکھانے کی ضرورت ہے میوات کے لوگ جب کسی کام کے پیچھے پڑ جاتے ہیں تو بس اس میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیتے ہیں اور کیا ہی اچھا ہو کہ میوات والے کتابوں کے پیچھے پڑ جائیں تو ایک انقلاب برپا ہو جائے. انہوں نے مزید کہا کہ راشد امین نے اپنی کتاب میں کوئی ایسا موضوع نہیں چھوڑا ہے ہے جس پر انہوں نے قلم نہ چلایا ہو، حالات حاضرہ پر بڑی بے باکی سے انہوں نے آواز اٹھائی ہے، مزدور، کسانوں کی بات کی ہے، انہوں نے اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی بہت سی کاوشیں میوات میں دیکھنے کو ملیں گی. ہتھین،ضلع پول میں اس اس کتاب”شکستہ پر” کا رسمِ اجراء ان کی طرف سے عمل میں آئے گا.
الجامعہ میوات کیمپس کے ڈائریکٹر شبلی ارسلان صاحب نے اس موقع پر فرمایا کہ ایسے پروگرام میوات کی سرزمین پر ہوتے رہنے چاہییں عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ ایسی ادبی مجلسیں دیکھنے کو نہیں ملتیں،راشد امین نے اپنی اس کتاب میں غزل، نظم، اور منتخب اشعار کو جمع کیا ہے، چونکہ وہ ندوی ہیں تو ان کی شاعری اسلامی تہذیب بھی جھلکتی ہے، اور ہم امید کرتے ہیں “شکستہ پر” کی رسمِ اجراء تقریب کے بعد بھی ایسی بہت سی کاوشیں اور کوششیں منظر عام پر آئیں گی اور ایسی ادبی محفلوں کا انعقاد ہوتا رہے گا، راشد امین ندوی مبارکباد کے مستحق ہیں انہوں نے اس کام کی داغ بیل ڈالی ہے.

ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا نے کہ راشد امین ندوی نے” شکستہ پر “میں نہ صرف اپنی قلبی کیفیات و واردات کا بیان کیا ہے بلکہ بیٹی، ماحولیات، صحافت، کسان، مزدور وغیرہ سے جڑے مسائل کو بھی انہوں نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے.
میوات کارواں صدر ڈاکٹر اشفاق عالم نے کہا کہ راشد امین نوجوان قلمکار ہیں، ان کی اس ادبی کاوش کی زیادہ سے زیادہ پذیرائی ہونی چاہیے اور میوات کارواں جلد ہی کتاب کی تجزیاتی نشست کا انعقاد کرائے گا..
صابر قاسمی نے اس موقع پر کہا کہ ایسی محفلوں کا انعقاد شاذ و نادر ہوتا ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ادبی محفلوں کا انعقاد میوات میں بھی ہونے لگا ہے اور ایسی محفلوں سے بہت سے ادبی حضرات کی حوصلہ افزائی ہوگی اور مزید ایسی محفلوں کا انعقاد ہوتا رہے گا.
دوران پروگرام “شکستہ پر” میں شامل ایک غزل کو الجامعہ میوات کیمپس کے طالب علم حارث نے گنگنایا اور محفل کے حسن کو دوبالا کیا ان کے علاوہ صدیق احمد لیکچر نے بھی اپنی بات رکھی.پروگرام میں میوات کے بہت سے قابل نوجوانوں نے شرکت فرما کر پروگرام کو کامیاب بنانے میں کلیدی رول ادا کیا.اخیر میں پروگرام میں نظامت کے فرائض انجام دے رہے “شکستہ پر” کے مصنف راشد امین ندوی نے تمام مہمانوں اور حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *