سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت سے صحافی صدیق کپن کا میڈیکل ریکارڈ طلب کیا

siddique

نئی دہلی (آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے منگل کو اتر پردیش حکومت سے غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار صحافی صدیق کپن کا طبی ریکارڈ طلب کیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت بدھ کو ہوگی۔ اترپردیش حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ باقاعدہ ضمانت کی درخواست دائر کی جانی چاہئے، کپن کی جانب سے کہا گیا کہ انہیں اسپتال کے بستر پر زنجیر سے باندھا گیا تھا۔ جسے یوپی حکومت نے غلط بتایا ہے۔ در اصل کیرل یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کو ایمس یا صفدرجنگ اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کیرل یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ 20 اپریل 2021 کو کپن باتھ روم میں گر گیا جس سے انہیں یشدید چوٹیں آئیں اور بعد میں اس کا کورونا ٹیسٹ بھی پازیٹیورہا۔ فی الحال وہ متھرا کے ایک اسپتال میں داخل علاج ہیں۔ درخواست کے مطابق کپپن کی خراب صحت کے پیش نظر انہیں فوری طور پر ایمس یا صفدرجنگ اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *