آہ! ٹریجڈی کنگ:محمد یوسف خان عرف دلیپ کمار

Rashid
بالی ووڈ کے ’ٹریجڈی کنگ‘ محمد یوسف خان عرف دلیپ کاآج(7جولائی2021) کوطویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔اطلاعات کے مطابق، 29جون 2021کو انہیں سانس لینے میں پریشانی کے بعداسپتال میں داخل کرایاگیا تھا۔دلیپ کمارکے انتقال کی خبرملتے ہی پورے ملک میں غم کی لہردوڑگئی ہے۔بالی ووڈ ستارے سے لیکر سیاسی حلقے سمیت ان کے مداح افسوس کا اظہارکررہے ہیں۔دلیپ کمارکے انتقال کے ساتھ ہی ہندی سنیما کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیاہے۔دلیپ کمارکوہندی فلموں کے سب اعلیٰ اعزازداداصاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازاگیا۔اس کے علاوہ انہیں پاکستان کا سب سے اعلیٰ وباقاراعزازنشان امتیازسے بھی نوازاگیا۔دلیپ کمارایک ادبی شخصیت ہیں۔بتایاجاتاہے کہ اگروہ اداکارنہ ہوتے ہوبڑے دانشوریاپروفیسرہوتے،انگریزی ادب میں انہوں نے کافی مطالعہ کیاہواہے۔

dilip
بالی ووڈ میں ’ٹریجڈی کنگ‘کے نام سے مشہوردلیپ کماربہترین اداکاروں میں شمار تھا۔وہ 2000سے 2006تک راجیہ سبھاکے رکن بھی رہے۔ہندی سنیمامیں انہو ں نے پانچ دہائیوں تک اپنے شانداراداکاری سے مداحوں کے دلوں پرراج کیا۔ان پرفلمایاگیا’گنگاجمنا‘کاگانا ’نینا لڑہیں توبھیامن ماکسک ہویبے کری‘کوبھلاکون بھول سکتاہے!
دلیپ کمارکااصلی نام محمدیوسف خان ہے۔ان کی ولادت پیشاور(اب پاکستان)میں 11دسمبر1922ہوئی تھی،ان کے 12بارہ بھائی بہن ہیں۔ان کے والدپھلوں کا تجارت کرتے تھے اورمکان کا کچھ حصہ کرائے پردیکرگزربسرکرتے تھے۔دلیپ کمارنے ناسک کے پاس ایک اسکول میں پڑھائی کی۔

dilip1
سال 1930میں ان کاخاندان پیشاورسے آکرممبئی میں بس گیا۔سال 1940میں والدسے اختلافات کی وجہ سے وہ پونے آگئے۔یہاں ان کی ملاقات ایک کینٹین کے مالک تاج محمدسے ہوئی،ان کی مددسے انہوں نے آرمی کلب میں سینڈوچ اسٹال لگایا۔کینٹین کانٹریکٹ سے 5ہزارکی بچت کے بعد،وہ ممبئی واپس لوٹ آئے اورا سکے بعدانہو ں نے والدکومددپہنچانے کیلئے کام تلاش کرناشروع کیا۔
سال 1943میں چرچ گیٹ میں ان کی ملاقات ڈاکٹرمسانی سے ہوئی،جنہوں نے انہیں بامبے ٹاکیزمیں کام کرنے کی پیشکش کی،اس کے بعدان کی ملاقات بامبے ٹاکیزکی مالکن دیویکارانی سے ہوئی۔

dilip2
ان کی پہلی فلم ’جوارابھاٹا‘تھی، جو1944میں آئی۔1949میں فلم ’انداز‘کی کامیابی نے انہیں مشہوربنایا۔اس فلم میں انہوں نے راج کپورکے ساتھ کیا۔’دیدار‘(1951) اور’دیوداس‘(1955) جیسی فلموں میں المناک کرداروں کے مشہورہونے کی وجہ سے انہیں ٹریجڈکنگ کہاگیا۔
سال 1960میں انہو ں نے فلم ’مغل اعظم‘میں مغل بادشادہ جہانگیرکارول اداکیا۔یہ فلم پہلے بلیک اینڈوائٹ تھی اور2004میں رنگین بنائی گئی۔انہوں نے 1961میں فلم ’گنگاجمنا‘کاخودڈائریکٹ کیا،جس میں ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی ناصرخان نے کام کیا۔
انہوں نے جب ہندی فلموں میں کام کرناشروع کیا،تومحمدیوسف سے اپنانام بدل کر دلیپ کمارکردیا،تاکہ انہیں ہندی فلموں میں زیادہ پہنچان اورکامیابی ملے۔دلیپ کمارنے اداکارہ سائرہ بانوسے 11اکتوبر1966کوشادی کی تھی۔شادی کے وقت دلیپ کمارکی عمر44سال اورسائرہ بانومحض 22سال کی تھیں۔انہو ں نے 1980میں کچھ دنوں کیلئے آسماں سے دوسری شادی بھی کی تھی۔

dilip3
دلیپ کمارنے اپنی بایوگرافی ’دی سبسٹینس اینڈدی شیڈو‘میں لکھاہے کہ سائرہ 1972میں حاملہ تھیں۔ان کے بیٹاہونے والاتھالیکن ہائی بلڈپریشرکی وجہ سے آٹھ ماہ کی پریگننسی کوڈاکٹرنہیں بچاسکے۔پھرانہیں اس خوشی کی جانب کبھی نہیں دیکھا۔اوران سے کوئی اولادنہیں ہوئی۔
سائرہ بانودلیپ کمارکی دیوانی تھیں۔ان کی یہ دیوانگی 8سال کی عمرمیں شروع ہوئی تھی جب انہوں نے ان کی فلم ’آن‘دیکھی تھی۔انکے دوخواب تھے:ایک اداکارہ بننا اوردوسرادلیپ کمارسے شادی کرنا۔بہرکیف ان کادونوں خواب پوراہوگیا۔سائرہ کی تعلیم لندن میں ہوئی۔لیکن وہ ہندوستان لوٹتے ہی انہوں نے اردوپڑھناشروع کردیاکیونکہ دلیپ کماربہترین اردوبولتے تھے۔سائرہ کاجنم 23اگست 1944کواترکھنڈ کے مسوری میں ہواتھا۔ان کی ممی اداکارہ نسیم بانواوروالدفلم پروڈیوسرمیاں احسان الحق تھے۔

dilip4
بتایاجاتاہے کہ سائرہ بانوکوفلم’ہم ہندوستانی‘بھی آفرہوئی تھی،لیکن انہوں نے 1961 میں ’جنگلی‘کے ساتھ ساتھ کریئرشروع کیا،اس وقت محض وہ 17سال کی تھیں۔کہاجاتاہے کہ راجندرکمارکے ساتھ ان کاافیئرتھا۔انہوں نے تین فلم ’آئی ملن کی بیلا‘،’امن‘ اور’جھک گیاآسمان‘کی تھیں۔’پڑوسن‘(1968)ان کے کریئرکی بڑی فلم ثابت ہوئی اوروہ اس فلم کے ساتھ ہی بالی ووڈ کی ٹاپ ہیرئینوں کی قطارمیں آگئیں۔
بالی ووڈ پریمی جوڑوں کی جب بھی بات کی جاتی ہے،توسائرہ بانواوردلیپ کمارکانام ضرورآتاہے۔دلیپ کمارالجائمربیماری سے متاثرتھے اورسائرہ ہی ان کا صرف سہارا بن کررہیں۔ہرجگہ دونوں ایک ساتھ آتے جاتے تھے اورایک دوسرے کاسہارابنے ہوئے تھے۔بالآخر یوسف خان عرف دلیپ کمار نے آج 7جولائی 2021کو دنیائے فانی کولبیک کہا اورسائرہ بانوکوچھوڑ کرابدی دنیا چلے گئے۔
بتادیں کہ جب دلیپ روبہ صحت تھے تو دونوں کوکئی پارٹیوں اورفلمی پریمئرکے موقع پرساتھ دیکھاجاتاتھا۔بتایاجاتاہے کہ سائرہ اپنے خالی اوقات کوسماجی خدمات میں لگاتی ہیں۔سال 2000میں دلیپ کمارراجیہ سبھاکارکن بنے۔1995میں انہیں داداصاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازاگیا۔
دلیپ کمارکو1983میں فلم ’شکتی‘،1968میں ’رام شیام‘،1965میں لیڈر، 1961میں کوہ نور،1958میں نیادور،1957میں دیوداس،1956میں آزاد اور1954میں داغ کیلئے فلم فیئربیسٹ اداکارایوارڈ سے نوازاگیا۔

dilip5
میں اخیرمیں سلام کرتاہوں اداکارہ سائرہ بانو کوجنہوں نے یوسف صاحب کاساتھ نہیں چھوڑا۔دلیپ کمارطویل عرصے سے بسترپرپڑے تھے۔سائرہ بانو نے ہمیشہ ان کا خیال رکھا اورایک پل کیلئے بھی کبھی دورنہیں ہوئی۔یعنی جیسا پیار ان کا جوانی میں تھا ویساہی پیار حالت علالت میں بھی کرتی رہیں۔جس طر ح سائرہ بانو نے دلیپ کمارکے بیوی ہونے کاشرف حاصل کیا اسی طرح انہیں بیوی ہونے کا حق بھی اداکیا۔اللہ تعالیٰ سائرہ بانو کوصبروہمت عطاء کرے اورتاعمر سلامت رکھے۔
بہرکیف بالی ووڈ میں پانچ دہائیوں تک راج کرنے والے سینئراداکار محمد یوسف خان عرف دلیپ کمارکے انتقال کے ساتھ ہی ہندی سنیما کے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیاہے۔خداان کے گناہوں کے معاف فرمائے اوران کے درجات کوبلندکرے، لواحقین و مداحوں کوصبرواستقامت عطافرمائے،آمین۔

تحریر: راشدالاسلام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *