جنگ آزادی ہند 1857اور1947تاریخ کے آئینے میں

azadi
 ہندوستان  15اگست 1947کو انگریزوں  سے آزاد ہوا اور 26جنوری 1950کو ہندوستان ایک جمہوری ملک بنا۔ملک کے تمام مدارس اسلامیہ,یونیورسیٹیوں ،کالجز اوراسکولوں میں بلکہ ہندوستان کے تمام شہروں، قریہ قریہ میں جشن یوم آزادی منارہے ہیں ۔اپنے ملک کی سرزمین سے کسے محبت نہیں ہوتی،اوریہ موقع سال میں دوبار آتا ہے ۔ایک 15 اگست یعنی یوم آزادی اوردوسرا 26   جنوری یعنی یوم جمہوریہ ۔آزادی اور جمہوریت دو ایسے لفظ ہیں جو کسی بھی ملک کے شہری کے لئے کافی اہمیت رکھتے ہیں ۔کتنی خوشی سے ہم اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم ایک آزاد اور جمہوری ملک کا حصہ ہیں ۔26جنوری کو شہیدان وطن کے کارناموں اوران کی خدمات کویادکیا جاتا ہے اورآنے والے نسلوں کوبھی اس سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ ملک میں جمہوریت کی بنیاد یہ ہے کہ اس ملک میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کوپوراحق ہے کہ وہ آزادی سے زندگی گزاریں ،سب کواختیارہے کہ وہ دستور میں دیئے گئے حقوق سے اپنادامن بھریں۔تاریخ کے صفحات اورہندوستان کی سرزمین گواہ ہے کہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے میں بزرگان دین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا تب کہیں جاکر ہندوستان اور اس میں بسنے والوں کو آزادی نصیب ہوئی تھی۔ یہی نہیں بلکہ انگریزوں کے خلاف اس جنگ میں ہندومسلم ساتھ ساتھ رہے ۔لیکن آج کے حالات کچھ اس طرح کے ہیں کہ آج اس ملک میں پیارو محبت اور بھائی چارگی کو فرقہ پرست عناصر خاک میںملادینا چاہتے ہیں ۔اوریہاں کی گنگاجمنی تہذیب کو ختم کردیناچاہتے ہیں۔مظفر نگراورسہارنپور حادثہ انہیں فرقہ پرستوں کی زہریلی سیاست کا نتیجہ ہے اورفرقہ پرستوں کی کارستانی سے ہی مظفر نگر کے حالات معمول پر نہیں آرہے ہیں۔ فرقہ پر ست اس ضلع کو فسادات کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں اور وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہوتے بھی نظر آرہے ہیں ۔کہیں بھی آپسی رنجش ہو وہ سبھی معاملوں کو ہندو مسلم کا رنگ دیکر ضلع میں دہشت پھیلا رہے ہیں ۔
قانون آزادی ہند1947(Indian Independence Act 1947)برطانوی پارلیمنٹ کے ایک قانون تھا جس کے تحت تقسیم ہندعمل لائی گئی اوردونئی عملداریا ں مملکت پاکستان اورمملکت بھارت وجودمیں آئیں۔ قانون کوشاہی اجازت 18جولائی 1947کوحاصل ہوئی ۔اوردونئے ممالک پاکستان 14اگست کواوربھارت 15اگست کووجودمیں آئے۔
یوم آزادی
یوم آزادی :بھارت کا یوم آزادی 15اگست کومنایاجاتا ہے ۔اس یوم کوذیل کے ناموں سے پکاراجاتاہے:
سوتنترتادوس(ہندی):ہندی زبان بولنے والی ریاستوں میں۔
یوم آزادی(اردو):خاص طورپراردوطبقہ میں
Independence Day:ملک بھرمیں بالخصوص علمی طبقہ میں
15اگست:دیہاتی علاقوں میں اکثراس نام سے پکاراجاتا ہے۔
ریاستی زبانوں میں:لسانی بنیادپربنی ریاستوں میں صوبائی زبانوں میں الگ الگ ناموں سے (مفہوم ایک مگرزبان الگ الگ)پکاراجاتا ہے ۔
جھنڈے کی عید:دہقانی علاقوں میں،اورتحتانوی وسطانوی جماعتوں کے متعلم اکثراس نام سے پکارتے دیکھاجاسکتاہے۔
برصغیرکے دوبڑے ممالک بھارت اورپاکستان جوبرطانوی حکومت کے دوران ایک ہی ملک ‘بھارت’کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ایک وسیع ملک آزادہوکردوملکوں میں تقسیم ہوا۔
حکومت پاکستان( انگریزی: Government of Pakistan) وفاقی پارلیمانی نظام ہے۔جس میں صدر مملکت کا انتخاب عوام کی بجائے منتخب پارلیمان کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سربراہ صدر مملکت ہے جو کو پاکستان کی افواج کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے۔ وزیر اعظم جو کہ انتظامی امور کا سربراہ ہوتا ہے، پارلیمانی اکثریت سے منتخب کیا جاتا ہے۔ صدر مملکت اور وزیر اعظم کا انتخاب اور تعیناتی بالکل جدا پہلو رکھتے ہیں اور ان کے دور حکومت کا آئینی طور پر آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ 6 ستمبر 2008 کو پاکستان کے الیکٹورل کالج جو کہ ایوان بالا (senate)، ایوان زیریں (National Assembly) چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ عام طور پر وزیر اعظم ایوان زیریں کی اکثریتی جماعت سے تعلق رکھتا ہے اور ملک کا انتظام کابینہ کی مدد سے چلاتا ہے جو کہ مجلس شوری کے دونوں ایوانوں بالا اور زیریں سے منتخب کیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ قومی اسمبلی کی ممبران اور صوبائی امبلی کی ممبران عوام ووٹوں کی ذریعے منتخب کرتے ہیں۔وزیر اعظم اور صدر اس پارٹی کے منتخب ہوتے ہیں جن کے سب سے ذیادہ ممبران یا امیدواران ووٹ جیت چکے ہو اور باقی پارٹیوں کے نسبت زیادہ نشست دردست کیئے ہو۔اسپیکر بھی اکثریتی پارٹی کا منتخب ہوتا ہے، تاہم اپوزیشن پارٹیوں کو بھی بڑے اودے دی جاسکتے ہیں۔پارلیمانی نظام میں دو پارٹیاں اہمیت کی حامل ہوتی ہے ایک وہ پارٹی جو تمام پارٹیوں سے ذیادہ نشستیں حاصل کرلے اس کو اکثریتی یا حکومت بنانی والی پارٹی اور دوسری وہ پارٹی جو دوسرے نمبر پہ سب سے زیادہ نشتیں حاصل کرے اسے اپوزیشن پارٹی کہا جاتا ہیمثلا پاکستان کے 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ کی سب سے زیادہ سیٹیں تھیں تو اس نے حکومت بنا لیا اور دوسری نمبر پہ پپلز پارٹی تھی جو اپوزیشن میں کھڑی ہوئی۔اگر حکومتی پارٹی کوئی فیصلہ لیا اور اپوزیشن اس فیصلے کی مخالفت کرے تو حکومتی پارٹی کا وہ فیصلہ مسترد کیا جائے گا۔
لال قلعہ
لال قلعہ دہلی کا ایک اہم قلعہ ہے۔دریائے جمنا کے نزدیک واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یادگارہے ۔اسے سترویں صدی میں مغل بادشاہ شاہجہان نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاس واقع ہیجہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔یہ سلسلہ 1857 کی جنگ آزادی تک جاری رہا جب غدر کے دوران انگریز فوج نے دلی (دہلی)پر اپنے قبضے کے بعد اس وقت کے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو قلعے سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور انہیں شہر کے جنوب میں واقع قطب مینار کے احاطے میں منتقل کر دیا تھا۔سن اٹھارہ سو ستاون سے لے کر سن انیس سو سینتالیس تک لگل قلعہ برطانوی فوج کے قبضے میں رہا اور اس میں انہوں نے اکثر ہندوستانی قیدیوں کو قید رکھا۔
آزادی کے بعد لال قلعہ کے بیشتر حصے ہندوستانی فوج کے قبضے میں آگئے اور یہاں سنگین نوعیت کے مجرموں کو رکھنے کے سیل بھی بنائے گئے۔قلعے کے دو دروازے ہیں جن میں سے ایک دلی دروازہ جبکہ دوسرا لاہوری دروازہ کہلاتا ہے۔ جب یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس وقت دریائے جمنا اس کی عقب کی دیواروں کو چھوکر گزرتا تھا لیکن اب وہ کچھ فاصلے پر بہتا ہے۔ہر سال یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم اسی قلعے کی فصیل سے خطاب کرتے ہیں۔2001میں عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے دو ارکان نے لال قلعہ پر حملہ کردیا جس میں درجن بھر بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اور مجاہدیں قلعہ کی فصیل پھلانگ کر فرار ہوگئے۔جس کے بعد دسمبر 2003 میں اس قلعے کو مکمل طور پر فوج نے خالی کر کے آثار قدیمہ کے محکمے کے حوالے کر دیا۔ 2007 میں لال قلعہ کو عالمی اثاثوں کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم برائے ثقافت، یونیسکو کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔
شاہجہان
عہد حکومت 8 نومبر1627 ، 2 اگست 1658
تاج پوشی 25 جنوری ، 1628 بمقام آگرہ
پورا نام شہاب الدین محمد شاہجہان
القابات شاہی منصبدار 30,000
پیدائش 5 جنوری 1592
جائے پیدائش لاہور
وفات 22 جنوری 1666(عمر 74 سال)
جائے وفات آگرہ
مدفن تاج محل
پیشرو جہانگیر
جانشین اورنگزیب عالمگیر
بیویاں اکبرآبادی محل (وفات 1677)
قندھاری محل (پیدائش 1594، شادی 1609)
ممتاز محل (پیدائش 1593، شادی 1612، وفات 1631)
حسینہ بیگم صاحبہ (شادی 1617)
موتی بیگم صاحبہ
قدسیہ بیگم صاحبہ
فتحپوری محل صاحبہ (وفات 2000 کے بعد)
سرہندی بیگم صاحبہ (وفات 1650 کے بعد)
شریمتی منبھوتی بائیجی لال صاحبہ (شادی 1626)
اولاد جہاں آرا بیگم ، دارا شکوہ ، شاہ شجاع ، روشن آرا بیگم ، اورنگزیب ، مراد بخش ، گوہرہ بیگم
خاندان مغل
والد جہانگیر
والدہ شہزادی مانمتی
مذہب اسلام
شاہجہان برصغیر پاک و ہند کے مغلیہ خاندان کا ایک بادشاہ تھا۔ شاہجہان مغل شہنشاہ جہانگیر کا بیٹا تھا۔ شاہ جہان کے بعد اس کا بیٹا اورنگزیب بادشاہ بنا۔ شاہ جہاں اپنے دور کا ایک مشہور معمار تھا۔ اس نے کئی تعمیرات کروائیں۔لال قلعہ،تاج محل،موتی مسجد ،تخت طاس وغیرہ
جنگ آزادی ہند1857کے اسباب
ہندوستانیوں کی انگریز کے خلاف پہلی آزادی کی مسلح جنگ۔انگریزوں نے اس جنگ کو غدر کا نام دیا۔ عموما اس کے دو سبب بیان کیے جاتے ہیں۔ اولا یہ کہ ایسٹ ایڈیا کمپنی کے ہندوستان کے تمام صوبے اور کئی ریاستیں یکے بعد دیگرے اپنی حکومت میں شامل کر لی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کے دل میں کمپنی کے متعلق شکوک پیدا ہوگئے ۔ دوم یہ کہ ان دنوں جوکارتوس فوجیوں کو دیے جاتے تھے۔ وہ عام خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی سے آلودہ تھے اور انھیں بندوقوں میں ڈالنے سے بیشتر دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ ہندو اور مسلمان فوجی سپاہیوں نے اسے مذہب کے منافی سمجھا اور ان میں کھلبلی مچ گئی۔جن سپاہیوں نے ان کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ان کی فوجی وردیاں اتار کر انھیں بیڑیاں پہنا دی گئیں۔ ان قیدیوں مین بہت سے ایسے تھے جنہوں نے انگریزوں کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں دی تھیں۔9 نو مئی اٹھارہ سو ستاون کو میرٹھ کی چھاونی میں تیسری لائٹ کیولری کے تقریبا پینتیس سپاہیوں کی برسرعام وردیاں اتار دی گئیں ۔ ان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں اور انہیں دس سال کی قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے ایسے کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا جن میں مبینہ طور پر گائے اور سور کی چربی ملی ہوئی تھی۔ اس واقعہ پر مشتعل ہو کر ان کے دوسرے ساتھیوں نے اگلے روز دس مئی کو سنٹ جانس چرچ میں گھس کر متعدد انگریز افسروں اور ان کے کنبہ کے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جلدہی اس بغاوت نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور رات ختم ہوتے ہوتے متعدد فرنگی موت کی نیند سو چکے تھے۔ان باغیوں نے یہاں سے دلی کا رخ کیا جو یہاں سے چالیس میل دور تھی اور اگلے روز دلی پہنچ گئے۔ انہوں نے دریائے جمنا پر بنے کشتیوں کے پل کو پار کیا اور کلکتہ دروازہ سے فصیل بند شہر میں داخل ہوئے۔ دو پہر ہوتے ہوتے متعدد انگریز اور دیگر یورپی ا ن کی بندوقوں اور تلواروں کا نشانہ بن چکے تھے۔بارہ اور سولہ مئی کے درمیان ان باغیوں نے عملا لال قلعہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ لال قلعہ مغل تہذیب اور ثقافت کی علامت تو تھا مگر اب اس کی وہ سیاسی حیثیت ختم ہو چکی تھی جو اسے حاصل تھی۔ یہاں بہادر شاہ ظفر کہنے کو تو تخت نشین تھے مگر ان کی سلطنت محض قلعہ کی فصیلوں تک محدود تھی۔ وہ بیاسی سال کے ہو چکے تھے۔
واقعات:جنگ آزادی ہند کا آغاز 1857 میں بنگال میں ڈمڈم اور بارک پور کے مقامات پر ہوا جہاں دیسی سپاہیوں نے ان کارتوسوں کے استعمال سے انکار کر دیا جن میں ان کے خیال کے مطابق سور اور گائے کی چربی لگی ہوئی تھی۔ انگریزی حکومت نے ان سپاہیوں کو غیر مسلح کرکے فوجی ملازمت سے برخاست کر دیا۔ لکھنو میں بھی یہی واقعہ پیش آیا ۔ برخاست شدہ سپاہی ملک میں پھیل گئے۔ اور فوجوں کو انگریزوں کے خلاف ابھارنے لگے۔9 مئی 1857 کو میرٹھ میں ایک رجمنٹ کے سپاہیوں کو دس سال قید با مشقت کی سزا دی گئی۔ جس طریقے سے یہ حکم سنایا گیا وہ بھی تہذیب سے گرا ہوا تھا۔ دیسی سپاہیوں نے انگریز افسروں کو ہلاک کرکے ان قیدیوں کو آزاد کرا لیا اور میرٹھ سے دہلی کی طرف بڑھنے لگے ۔میرٹھ کے سپاہیوں کی دہلی میں آمد سے دہلی کی فوجیں بھی بگڑ گئیں۔ اور دہلی کے مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اعلان کے بعد بغاوت کی آگ دور دور تک پھیل گئی۔
بہادر شاہ ظفر
جنرل نکلسن نے انگریز فوجوں کی مدد سے تقریبا چار مہینے تک دہلی کا محاصرہ کیے رکھا۔ 14 ستمبر کو کشمیری دروازہ توڑ دیا گیا۔ جنرل نکلسن اس لڑائی میں مارا گیا مگر انگریز اور سکھ فوجوں نے دہلی پر قبضہ کر کے ۔ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون بھیج دیا ۔ ان کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو گولی سے اڑا دیا گیا۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہو جانے سے ہر جگہ جنگ آزادی کی رفتار مدہم پڑھ گئی۔ مارچ 1858 میں لکھنو پر دوبارہ انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ دہلی ،لکھنو ،کانپور ، جھانسی کے علاوہ چند اور مقامات پر بھی انگریزوں کے تصرف میں آگئے۔جنگ آزادی کا نعرہ انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دو تھا، اس لیے اس میں تمام ایسے عناصر شامل ہوگئے جنھوں نے انگریز سے نقصان پہنچا تھا۔ متضاد عناصر ایک مشترکہ دشمن کے خلاف یکجا تو ہوئے تھے لیکن وطنیت اور قومیت کے تصورات سے ناآشنا تھے۔ بہادر شاہ ظفر جس کی بادشاہت کا اعلان باغی سپاہیوں نے کردیا تھا۔ نہ بادشاہت کی صلاحیت رکھتا تھا اور نہ باغیوں کی مخالفت کرنے کی طاقت۔ مزید برآں باغیوں نے دہلی میں لوٹ مار اور غارت گری مچا کر عام لوگوں کی ہمدریاں کھو دی تھیں۔ چنانچہ 1857 کی یہ جنگ آزادی ناکام ری۔
فتوی جہاد
علامہ فضل حق خیر آبادی اور ان کے ساتھی مفتی صدر الدین خان آزردہ، سید کفایت علی کافی اور دیگر بہت سے مسلمان علما نے دہلی کی جامع مسجد سے بیک وقت انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی جاری کیا جس کے نتیجے میں مسلمان اس جنگ کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے لڑے۔مجاہد اعظم جنگ آزادی ہند 1857 بطل حریت علامہ فضل حق شہید (1797 تا 20 اگست 1861) بن مولانا فضل امام خیر آبادی مسلم رہنمائے جنگ علمائے اہل سنت میں سے تھے۔ فضل حق خیر آبادی 1857 کی جنگ آزادی کے روح رواں تھے۔ وہ ایک فلسفی، ایک شاعر، ایک مذہبی عالم تھے، لیکن ان کے شہرت کی بنیادی وجہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں انگریز قبضہ آوروں کے جہاد کا فتوی بنا۔علامہ فضل حق 1797 کو خیرآباد کے علاقے میں پیدا ہوئے، اعلی تعلیم حاصل کی ،منطق وفلسفہ کی دنیا میں اتھاریٹی تسلیم کئے گئے،تصانیف چھوڑ یں ،بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہندستان کو انگریزوں کے پنجہ ناپاک سے آزاد کرانے کی جان توڑ محنت کی ،عشق ومحبت رسول پر کتابیں لکھیں ،قوانین سازی کی۔ اپنوں کی ستم ظریفیاں اور علامہ فضل حق خیر آبادی چشتی۔فضل حق خیر آبادی لکھن میں ایک قاضی القضا تھے۔ انگریزوں کے جاسوس گوری شنکر نے 28 اگست 1857 کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ: “مولوی فضلِ حق جب سے دہلی آیا ہے،شہریوں اور فوج کو انگریزوں کے خلاف اکسانے میں مصروف ہے۔ وہ کہتا پھرتا ہے کہ اس نے آگرہ گزٹ میں برطانوی پارلیمنٹ کا ایک اعلان پڑھا ہے جس میں انگریزی فوج کو دہلی کے تمام باشندوں کو قتل کردینے اور پورے شہر کو مسمارکردینے کے لئے کہا گیا ہے ۔آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کے لئے کہ یہاں دہلی کا شہر آباد تھا،شاہی مسجد کا صرف ایک مینار باقی چھوڑا جائے گا۔علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے جنگ آزادی میں انگریزوں کے عزائم بھانپ لئے تھے۔ جامع مسجد دہلی میں نماز جمعہ کے بعد علما کے سامنے تقریر کی اور اِستِفتاپیش کیا۔ جس میں انگریز کے خلاف جہاد کے لئے کہا گیا تھا۔ جہاد کے اس فتوے پر مفتی صدرالدین خان، مولوی عبدالقادر، قاضی فیض اللہ، مولانا فیض احمد بدایونی، وزیر خان اکبر آبادی، سید مبارک حسین رامپوری نے دستخط کئے۔ اس فتوے کے جاری ہوتے ہی ہندوستان بھر میں قتال و جدال شروع ہو گیا۔ ان علما کو اس فتوے کے نتائج و عواقب کا ادراک تھا. علامہ فضل حق خیر آبادی رحم اللہ علیہ کا جہاد کا فتوی جاری کرنا تھا کہ ہندوستان بھر میں انگریز کے خلاف ایک بہت بڑی عظیم لہر دوڑگئی اور گلی گلی، قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، بستی بستی، شہر شہر وہ قتال وہ جدال ہوا کہ انگریزحکومت کی چولہیں ہل گئیں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ انگریز بڑا مکار اور خبیث ہے اس نے اپنی تدبیر یں لڑا کر بڑے بڑے لوگوں کو خرید کر اور ڈرا دھمکا کر بے شمار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اس نے تحریک کو کچل دیا۔ آزادی کی تحریک کوکچل تودیا مگر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی نے آزادی کا سنگ بنیادرکھ دیا تھا اس کو بظاہر انگریز نے وقتی طور پر کچل دیا۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہونے کے بعد کسی طرح یہاں سے نکل کرعلامہ فضلِ حق اودھ پہنچے۔ جنوری 1859 میں آپ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور کالاپانی کی سزا ہوئی۔ آپ نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور عدالت میں کہا کہ: “جہاد کا فتوی میرا لکھا ہوا ہے اور میں آج بھی اپنے اس فتوی پر قائم ہوں”۔ 1857 کی جنگ آزادی ناکام ہونے کے بعد ان کو انگریز نے قید کر دیا۔ جب ان کا بیٹا ابو الحق انہیں آزاد کروانے کے لییپورٹ بلیئر پر 13 فروری 1861 کو پہنچا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی – فضل حق خیر آبادی کو پہلے ہی 12 فروری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔
مجاہد اعظم جنگ آزادی ہند 1857 بطل حریت علامہ فضل حق شہید (1797 تا 20 اگست 1861) بن مولانا فضل امام خیر آبادی مسلم رہنمائے جنگ علمائے اہل سنت میں سے تھے۔ فضل حق خیر آبادی 1857 کی جنگ آزادی کے روح رواں تھے۔ وہ ایک فلسفی، ایک شاعر، ایک مذہبی عالم تھے، لیکن ان کے شہرت کی بنیادی وجہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں انگریز قبضہ آوروں کے جہاد کا فتوی بنا۔علامہ فضل حق 1797 کو خیرآباد کے علاقے میں پیدا ہوئے، اعلی تعلیم حاصل کی ،منطق وفلسفہ کی دنیا میں اتھاریٹی تسلیم کئے گئے،تصانیف چھوڑ یں ،بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ہندستان کو انگریزوں کے پنجہ ناپاک سے آزاد کرانے کی جان توڑ محنت کی ،عشق ومحبت رسول پر کتابیں لکھیں ،قوانین سازی کی۔ اپنوں کی ستم ظریفیاں اور علامہ فضل حق خیر آبادی چشتی۔فضل حق خیر آبادی لکھن میں ایک قاضی القضا تھے۔ انگریزوں کے جاسوس گوری شنکر نے 28 اگست 1857 کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ: “مولوی فضلِ حق جب سے دہلی آیا ہے،شہریوں اور فوج کو انگریزوں کے خلاف اکسانے میں مصروف ہے۔ وہ کہتا پھرتا ہے کہ اس نے آگرہ گزٹ میں برطانوی پارلیمنٹ کا ایک اعلان پڑھا ہے جس میں انگریزی فوج کو دہلی کے تمام باشندوں کو قتل کردینے اور پورے شہر کو مسمارکردینے کے لئے کہا گیا ہے ۔آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کے لئے کہ یہاں دہلی کا شہر آباد تھا،شاہی مسجد کا صرف ایک مینار باقی چھوڑا جائے گا۔علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے جنگ آزادی میں انگریزوں کے عزائم بھانپ لئے تھے۔ جامع مسجد دہلی میں نماز جمعہ کے بعد علما کے سامنے تقریر کی اور اِستِفتاپیش کیا۔ جس میں انگریز کے خلاف جہاد کے لئے کہا گیا تھا۔ جہاد کے اس فتوے پر مفتی صدرالدین خان، مولوی عبدالقادر، قاضی فیض اللہ، مولانا فیض احمد بدایونی، وزیر خان اکبر آبادی، سید مبارک حسین رامپوری نے دستخط کئے۔ اس فتوے کے جاری ہوتے ہی ہندوستان بھر میں قتال و جدال شروع ہو گیا۔ ان علما کو اس فتوے کے نتائج و عواقب کا ادراک تھا. علامہ فضل حق خیر آبادی رحم اللہ علیہ کا جہاد کا فتوی جاری کرنا تھا کہ ہندوستان بھر میں انگریز کے خلاف ایک بہت بڑی عظیم لہر دوڑگئی اور گلی گلی، قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، بستی بستی، شہر شہر وہ قتال وہ جدال ہوا کہ انگریزحکومت کی چولہیں ہل گئیں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ انگریز بڑا مکار اور خبیث ہے اس نے اپنی تدبیر یں لڑا کر بڑے بڑے لوگوں کو خرید کر اور ڈرا دھمکا کر بے شمار لوگوں کو قتل کرنے کے بعد اس نے تحریک کو کچل دیا۔ آزادی کی تحریک کوکچل تودیا مگر حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی نے آزادی کا سنگ بنیادرکھ دیا تھا اس کو بظاہر انگریز نے وقتی طور پر کچل دیا۔ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہونے کے بعد کسی طرح یہاں سے نکل کرعلامہ فضلِ حق اودھ پہنچے۔ جنوری 1859 میں آپ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور کالاپانی کی سزا ہوئی۔ آپ نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور عدالت میں کہا کہ: “جہاد کا فتوی میرا لکھا ہوا ہے اور میں آج بھی اپنے اس فتوی پر قائم ہوں”۔ 1857 کی جنگ آزادی ناکام ہونے کے بعد ان کو انگریز نے قید کر دیا۔ جب ان کا بیٹا ابو الحق انہیں آزاد کروانے کے لییپورٹ بلیئر پر 13 فروری 1861 کو پہنچا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی – فضل حق خیر آبادی کو پہلے ہی 12 فروری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔
نتائج:پھانسی کا ایک منظر
دہلی کی فتح کے بعد انگریز فوجوں نے شہری آبادی سے خوف ناک انتقام لیا۔ لوگوں کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ سینکڑوں کو پھانسی پر چھڑھا دیا گیا ۔ ہزاروں نفوس گولیوں سے اڑا دیے گئے۔ ان میں مجرم بھی تھے اور بے گناہ بھی۔ مسلمان بھی تلوار کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اور ہندو بھی۔ لیکن جلد ہی انگریزی فوج کے سکھ سپاہیوں نے قتل و غارت میں فرقہ ورانہ رنگ بھر دیا۔ مسلمان چن چن کر قتل کیے گئے۔ بہت سے مقتدر اور متمول مسلمانوں کی جائدادیں تباہ ہو گئیں۔ اور وہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے۔ ان ہولناک مظالم کا اعادہ ان مقامات پر بھی کیا گیا جہاں اولا جنگ کی آگ بھڑکی تھی۔اگست 1858 میں برطانوی پارلیمنٹ نے اعلان ملکہ وکٹوریہ کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے ہندوستان کو تاج برطانیہ کے سپرد کر دیا۔اس جنگ کے بعد خصوصا مسلمان زیر عتاب آئے۔ جب کہ ہندوں نے مکمل طور پر انگریز سے مفاہمت کر لی۔ یوں مسلمانوں پر جدید علم کے دروازے بند کر دیے گئے۔ اور خود مسلمان بھی نئی دنیا سے دور ہوتے چلے گئے۔ ایسے میں سرسید جیسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے اس جنگ آزادی کے وجوہات پر روشنی ڈالی اور انگریزوں پر زور دیا کہ ہندوستانیوں میں موجود احساس محرومیوں کو دور کرکے ہی انگریز یہاں حکومت کر سکتا ہے۔ سرسید نے مسلمانوں میں تعلیمی انقلاب لانے کے لیے کالج اور یونیورسٹیاں قائم کیں۔اس جنگ آزادی میں ہندو اور مسلمان مل کر ہندوستان کے لیے لڑے لیکن اس کے بعد انگریز کی سازش اور کچھ ہندوں کے رویے کی وجہ سے مسلمان اور ہندو الگ الگ قوموں کی صورت میں بٹ گئے۔ یوں پہلی مرتبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پڑی۔
برطانوی فوج نے بہادر شاہ ظفر کو ھمایوں کے مقبرے سے گرفتار کیا
اس دوران انگریزوں نے دلی پر از سر نو قبضہ کرنے کی کوشش کی اور پہلا جوابی حملہ کیا۔ میجر جنرل ہنری برنارڈ کی قیادت میں انگریز فوج نے بادلی کے سرائے میں باغیوں کو شکست دی اور پہاڑیوں میں پڑا ڈالا۔ دلی پر دس جون سے گولہ باری شروع ہوئی۔ اب برسات کا موسم شروع ہو رہا تھا۔ اس دوارن ہیضہ پھیلنے سے متعدد فوجیوں اور میجر برنارڈ کی موت ہوگئی۔باغیوں کی ایک بڑی فوج بخت خان کی قیادت میں دو جولائی کو دلی میں داخل ہوئی۔ بخت خان کو مرزا مغل کی جگہ پر باغیوں کی فوج کا سپاہ سالار مقرر کیا گیا۔ جس نے نو جولائی کو برطانوی فوجوں پر ایک کامیاب حملہ کیا۔ مگر درباری سازشوں کے نتیجے میں بخت خان جیسے مستعد اور تجربہ کار جنرل کو برطرف کر دیا گیا اور ایک بار پھر برطانوی فوجوں کا پلڑا بھاری ہوگیا۔انگریزی فوجوں نے چودہ ستمبر کو دلی پر ایک منصوبہ بند اور منظم حملہ کیا اور اینگلو عربک کالج اور دوسری طرف سینٹ جیمس چرچ کی جانب سے چاندی چوک کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ ان ایام میں بعض امیروں کی سازشوں کی وجہ سے بہادر شاہ نے آخری لڑائیوں میں باغی فوج کے ساتھ رہنے کی بجائے سترہ ستمبر کو قلعہ خالی کر دیا اور ہمایوں کے مقبرے میں چلے گئے۔بیس ستمبر تک دلی باغیوں سے خالی ہوگئی اور انگریز لال قلعہ میں داخل ہوگئے۔ ہزاروں لوگ جان کے خوف سے شہر چھوڑ کر ادھر ادھر چلے گئے اور متعدد قتل ہوگئے۔1857 کی جنگِ آزادی:مزاحمت کار ایک منظم انگریز فوج کے خلاف بڑی بہادری سے لڑے تھے۔دوسرے دن کیپٹن ولیم ہڈسن نے کسی مزاہمت کے بغیر بہادر شاہ کو ہمایوں کے مقبرے سے گرفتار کیا۔ ہڈسن نے ان کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو خونی دوروازے کے قریب گولی مار دی۔بہادر شاہ کو پہلے قلعہ میں رکھا گیا اور بعد میں چاندی چوک کے ایک مکان میں منتقل کر دیا گیا۔ ان پر جنوری اٹھارہ سو انسٹھ میں لال قلعہ ہی کے دیوان خاص میں ایک فوجی عدالت میں دو مہینہ تک مقدمہ چلتا رہا اور انتیس مارچ کو انہیں قصور وار قرار دے دیاگیا اور جلاوطن کرکے رنگون بھیجنے کی سزا سنائی گئی۔ اکتوبر میں اپنی بیگم زینت محل اور ایک بیٹے جواں بخت کے ہمراہ رنگون روانہ ہوئے جہاں سات نومبر اٹھارہ سو باسٹھ کو ان کا انتقال ہوگیا۔دلی پر فتح کے باوجود بغاوت کے دیگر مرکزوں مثلا لکھن، کانپور، اور بریلی میں انگریزں کو اپنا اقتدار قائم کرنے میں باغیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بالخصوص بریلی، کانپور اور جھانسی میں باغیوں نے بہت مزاحمت کی۔اٹھارہ سو ستاون کی اس بغاوت کا جسے پہلی جنگ آزادی کہا جاتا ہے ، ناکام ہونا یقینی تھا، کیوں کہ اس کے پس پردہ کوئی مثبت فکری اور سیاسی نظام کار فرما نہیں تھا۔ یہ تحریک کوئی منظم اور منصوبہ بند تحریک نہیں تھی۔ باغیوں کو صرف ایک مقصد یعنی غیر ملکی اقتدار کے خاتمے نے متحد کر رکھا تھا۔ ان کی سوچ پسماندہ تھی اور وہ ایک ایسے نظام کو ازسر نو زندہ کرنا چاہتے تھے جو اپنی اہمیت اور ضرورت کھو چکا تھا۔ البتہ انہوں نے اپنے وقت کے اقتصادی اور سماجی حالات میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا ایک خواب ضرور دیکھا تھا۔ اور اس کے لیے جان کی بازی لگا دی تھی۔(بشکریہ بی بی سی،ویکپیڈیا)
15اگست1947ء کوہندوستان آزادہوا،اوراس آزادی میں ہندو،مسلم ،سکھ، عیسائی اورعلماء کرام سب نے مل کر حصہ لیا اورہندوستان کوانگریزوں کے دوراقتدارسے آزادکرایا ،خصوصاً علماء کرام نے آزادی ہند کے خاطرجان ومال کوقربان کیا ،ملک کی آزادی کے لئے پھانسی کے پھندوں کوچومنے پر فخرمحسوس کیا انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلندکیا ،انہیں علماء کی شہادت کی وجہ سے ہندوستان آزادہوا ورنہ اب تک فرنگیوں کی ہاتھوں غلامی کی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہوتے یہ اللہ تعالی کی نصرت اورعلماء کرام کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔علماء کرام نے پھانسی کے پھندوں کوچوم کرفخرمحسوس کیا۔ دہلی کی جامع مسجد سے لیکر پشاورتک ان کی گردنیں پیڑوں پر لٹکی ہوئی تھی۔ انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد دیا ۔تن کے گورے اوردل کے کالے انگریزوں کوبھگایا  جب دیگر لوگ چین وآرام کی زندگی جی رہے تھے اور ہندوستان پر مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا ایسے وقت میں دوربین علماء کرام لوگوںکو آزادی کی تحریک میں شامل کرنے کی جدوجہد کررہے تھے اور انگریزوں کی مستقبل کی پالیسی سے عوام کو روشناس کرارہے تھے اور ولی اللٰہی خاندان انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے رہا تھا۔ اگر وہ بھی چاہتے تو رائے بہادر، نواب بہادر کا خطاب حاصل کرتے، کہیں کا راجہ یا نواب بن کر عیش وآرام کی زندگی جی سکتے تھے شرط یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف فتوی نہ دیتے اور ان آزمائشوں میں نہ پڑتے۔آزادی ہند کیلئے ہندو،مسلم ،سکھ عیسائی اورعلمائے کرام  سب نے مل کرانگریزوں سے جنگ کی لیکن اس میں ٦٠فیصد سے زائد علماء کرام کی قربانیاں ہیں جوتاریخ کے اوراق میں عیاں ہیں لہذا تمام باشندگان ہندسے پرخلوص درخواست ہے کہ نفرت وعداوت کی زنجیریں توڑکر ،تعصب پرستی چھوڑکر1947ء والا اتحادو اتفاق پیداکر یںاورجشن یوم آزادی منائیں۔اسی میں ملک کی ترقی اوربھلائی ہے ۔
ماخذ کتابیات: جنگ آزادی کے روشن چراغ نمبر، کرتے ہیں خطاب آخر، ویکی پیڈیا وغیرہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *