گلزار دہلوی:تہذیبی امتزاج کی تجسیم :فرحت احساس

Gulzar-Dehlavi

فرحت احساس

پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی اپنا جسمانی سفر تمام کرکے ہماری ادبی اور تہذیبی تاریخ میں ایک ایسی داستان کے طور پر درج ہوگئے ہیں، جسے جب بھی پڑھا یا سنا جائے گا تو آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہوئی ہماری مشترکہ تہذیب کا تمام تر حسن و جمال مجسم ہوکر سامنے آجائے گا۔گلزار صاحب ایک منفرد تہذیبی تجربے کی حیثیت رکھتے تھے، جس میں ایک شخص نے ایک ایسی ثقافت کے عناصر اور اقدار کو اپنی ذات میں جذب کیا، جس میں وہ پیدا نہیں ہوا تھا اور کچھ اس طرح جذب کیا کہ دوئی کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ یہ تہذیبی جذب وانجذاب کا عمل لسانی ادبی ہی نہیں مذہبی سطح پر بھی بروئے کار آیا۔ ادب اور زبان کی سطح پر جہاں ان کی وابستگی داغ دہلوی کے شاگردوں بیخود دہلوی اور سائل دہلوی سے رہی، وہیں وہ مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا حفظ الرحمان جیسے علمائے دین اور مجاہدین آزادی سے بھی وابستہ رہے۔اس طرح صاف نظر آتا ہے کہ وہ سانچا جس نے ان کی شخصیت کو تشکیل دیا خود ان کا ہی بنایا ہوا تھا۔ یہ ایک ایسا امتیاز ہے، جو گلزار صاحب کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں ہوا۔

farhat-ehsas

گلزارصاحب دہلی کے ایک ممتاز کشمیری پنڈت خاندان کے چشم و چراغ تھے، جس کا ثقافتی مزاج اردو زبان اور شاعری میں رچا بسا تھا۔ اردو ادب کی تاریخ میں یہ خاندان بلاشبہ ایک عجوبے کی حیثیت رکھتا ہے جہاں خاندان کے تقریبا تمام افراد شاعر تھے۔ گلزار صاحب کے والد پنڈت تربھون ناتھ زار دہلوی ممتاز استاد شاعر تھے۔والدہ پربھا رانی بیزارؔ دہلوی ممتاز شاعرہ تھیں۔ اور ان کے علاوہ دو بھائی،دادا اور نانا شاعر تھے۔ اس زمانے کے تمام تر اہم شاعراورادیب ان کے گھر تقریباً روزانہ ہونے والی ادبی محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ گلزار صاحب کی زبان پر اردو کے رس جس کا جو دریا جاری تھا اس کے سوتے اس خاندان کی تربیت اور ان محفلوں کی چہل پہل میں تلاش کئے جاسکتے ہیں۔خاندانی اثرات کے تحت بہت جلد شعر گوئی شروع کردی۔ شاعری میں انہوں نے داغ دہلوی کے مزاج اور محاورے کو اختیار کیا، اور اپنے طرز کی رومانی اور رندانہ غزل کہی، جس میں دہلوی زبان کے ماہرانہ استعمال نے گہری کاٹ پیدا کردی تھی۔ انہوں نے اپنی طویل عمر کے دوران ترقی پسند تحریک اور پھر جدیدیت کے زیر اثر شاعری کے سروکار اور لب و لہجے میں آنے والی تبدیلیوں کو دور سے ایک مشاہد کی نظروں سے دیکھا، مگر روش سے نہیں ہٹے ، اور یہ اچھا ہی ہوا کہ پھر وہ گلزار نہ رہ پاتے۔

گلزار دہلوی اردو زبان اور تہذیب کی تمام تر نفاستوں اور لطافتوں کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک گزرا ہوا زمانہ بولتا اور گونجتا ہوا سنائی دیتا تھا۔ٹھیٹھ دہلوی اردو کا لہجہ ان پر ختم تھا ،اور اب ہمیشہ کے لئے ناپید ہوگیا۔ ان کی تقریر اور شعر پڑھنے میں جو بے پناہ سحر انگیزی تھی، وہ ہم سب کے عام تجربے کا حصہ ہے مگر ان کا ایک اور خاص رنگ بھی تھا، جو ذاتی محفلوں میں کھلتا تھا۔ مجھے ایسی محفلوں میں شرکت کی خوش بختی حاصل رہی ہے جہاں ان کے چہرے کے تیکھے نقوش سرخ و سفید رنگت اور جسمانی وجاہت آتش سیال کے لمس سے شعلہ بار ہو اٹھتی تھی۔ وہ اپنی محفل شراب کا آغاز عجیب و غریب دعائیہ کلمات سے کرتے تھے، جس سے یہ محفل ایک روحانی جمالیاتی تجربہ بن جاتی تھی۔ اور پھر گلزار صاحب کی گل افشانیٔ گفتار اپنی بے مثال بذلہ سنجی اور حسن مزاج کے ساتھ دیر تک زندہ دلی کے نہ جانے کتنے جہانوں کی سیر کراتی رہتی تھی۔ افسوس کہ ایسے زندہ دل شخص کو مرنا پڑتا ہے یعنی موت میں ذرا بھی زندہ دلی نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *