سرور کائنات کی تعلیمات نظام انسانیت کی فلاح کا بنیادی سر چشمہ

taleem

معترضرین و ناقدین،مبصرین و محللین کی طرف سےاسلام اور تعلیمات اسلام پر متعدد اعتراضات کئے جارہےہیں اورقسم قسم کےالزامات عائد کئے جارہےہیں۔ان اعتراضات و اشکالات میں اہم اعتراض یہ بھی ہےکہ اسلام امن وامان،اخوت وبھائی چارگی اور باہمی تطابق وتوافق کامخالف ہےاور ہرجگہ مسلمان نظام امن کو درہم برہم کرنےمیں مصروف ہیں اور ان کا شیرازہ ہر جگہ منتشر ہے،جو امن و امان اور اخوت و مودت کےتصورسےان کی تہی دامانی کا ثبوت ہے۔جیسا کہ نام نہاد میڈیا والےآئےدن اسلام اورمذہب اسلام پربےبنیاد الزامات عا ئد کرتےرہتےہیں،جس کی بنیاد پر لوگ اسلام اور مسلمانوں سےعداوت وقدورت رکھنے لگے ہیں۔ا‌ن اعتراضات میں کتنی صداقت ہیں اور عداوت؟کیا اس کی اجازت اسلام دیتاہے؟اس کا اندازہ اسلامی تعلیمات پر ایک طائرانہ تجزیہ سے ہی بخوبی ہو جاتاہے۔اسلام و ایمان کا ڈھانچہ سلامتی و امن سے مرکب ہے۔اب اگر کسی زمانہ میں اور کسی مقام پرچندمسلمان نامساعد حالات میں امن واخوت مخالف سرگرمیوں ملوث ہوجائیں،تو اس کی بنیاد پر اس کی کردارپرانگشت نمائی و حرف گیری تو کی جاسکتی ہےمگر اسلام کو قطعا ہدف ملامت نہیں بنایاجاسکتا۔

اسلام اور پیغمبر اسلام کے تعلق سے چند دھندلی تصویر پیش کرنےوالوں کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ محمد ﷺ ہی دنیا کی وہ واحداورعظیم شخصیت ہیں،جنھوں نےدنیاکو امن واتحادکےایک دھاگے میں پرونےکی بےنظیرکوششیں کیں اورایسی بنیادیں چھوڑ گئےجن پرہرزمانےمیں امن و اتحادکی راہیں استوارکی جاسکتی ہےاوراقوام عالم کے درمیان بقائے باہم کی فضاقائم کی جاسکتی ہے۔

اسلام امن و اتحاد اور مساوات کامذہب ہے،جوخوشگوارماحول کاپیغام دیتاہے اورپیغام کا محور ومرکز،منبع محسن انسانیت،کریم الشیم،شفیع الامم محمد بن عبداللہ تھے۔جنھیں خودباری تعالی نےرحمت اللعالمین بناکر بھیجا۔آپﷺ امن واتحادکانقیب بن کردنیامیں آئےاور لوگوں کو انسانی بنیادوں پرصالح معاشرہ کی تشکیل کی دعوت دی۔امن وسلامتی سے متعلق قرآن میں فرمان باری ہے:ترجمہ۔”جو لوگ مشرف باسلام ہوئےاوراپنےایمان کو شرک کی آلودگی سے آلودہ نہیں کیا،درحقیقت امن انہی کےلئےہےاوروہی راہ یاب ہیں۔”(الانعام:٨٢)یہ آیت اسلام میں امں کی اہمیت کو اجاگرکررہی ہےکہ خدائے لم یزال ولایزال پرایمان اور شرک میں ملوث نہ ہونےکاخدائی انعام امن ہے۔اللہ رب العزت نے ایک مقام پرانسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک انسان کی قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیاہے۔چنانچہ فرمایا:”جس نے کسی انسان کو خون کے عوض یافسادبرپاکرنےکےسواکسی اور سبب سے قتل کیااس نے گویاتمام انسانوں کو قتل کردیااور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویاتمام انسانوں کی جان بچائی۔”(المائدہ:٣٢)سن لو ناحق قتل کرنے والو!ماب لنچنگ کرنے والو!اس آیت کے ذریعہ واضح کردیاکہ اس دار فانی میں انسانی زندگی کادارو مدار اور تمام تر انحصار اسی پر ہے کہ ہر شخص دوسرے کی جان کا احترام کرتا ہواوردوسرےکی مددوتحفظ کاجذبہ وحوصلہ رکھتاہو۔

اسلام کی بنیادی پیغاموں میں امن وآشتی،صلاح وفلاح اورتحفظ جان بھی ہے۔اگر اس پس منظرمیں پیغمبرانہ تعلیمات کاجائزہ لیاجائےتو متعددبنیادی چیزیں نکھر کراورواضح ہوکرسامنے آتی ہے۔
(١) عقیدۂ توحید:-بعثت نبوی سے قبل دنیا تیرہ وتاریک تھی،مقصد حیات سے ناآشنا چلے جارہےتھے،آپﷺکی بعثت نےان کی کایاپلٹ دی۔مقصد بعثت خدائے واحد کی عبادت،فرمان الہی کے سانچے میں لوگوں کو ڈھالنے،امں و شانتی کے فروغ اور لوگوں میں عزت واحترام کا جذبہ پیداکرناتھا۔خود آپﷺفرماتےتھے:”اسلام قبول کرلوپرامن وجاؤگے۔”
(٢)وحدت انسانی:-آپﷺ کی آمد سے قبل لوگ مختلف خانوں میں منقسم تھےاورخاندانی شرافت،عظمت ،قوت باعث افتخارہواکرتی تھی۔آپﷺ نےاس بھرم کودورکیااورفرمایا کہ:”تم میں سے سب سے زیادہ معززومکرم بارگاہ رب العزت میں وہ ہےجوزیادہ پرہیزگارہے۔”
(٣)اتحادواتفاق:-آج کےدورمیں سب سےمہلک وخطرناک مرض اتحادواتفاق کا فقدان ہے۔اختلاف کاجوں ہی کوئی شوشہ ملاپھر اس کےکسی گوشے کونہیں چھوڑتے۔اتحاد تصادم حق وباطل میں سب سےبڑاآلہ رہاہے،نیز اس پر مددالہی بھی نازل ہوتی ہےاوراس میں اللہ کی اطاعت وفرماں برداری بھی پنہاں ہے۔اتحاد واتفاق زندہ قوموں کے لئےایک ایسی لازوال نعمت ہےجس کی بنیاد پر قلیل کثیر پر بھاری پڑجاتا ہے ۔کسی شاعر نی کیا ہی خوب کہا ہے:-
آپس کے اتحاد میں طاقت خدا کی ہے
مل جل کےساتھ رہنا عبادت خدا کی ہے
(٤)عدل وانصاف:-عد ل و انصاف اگر کسی سماج،سوسائٹی،ملک وملت سے ختم ہوجائےاوربےانصافی کی حکمرانی ہوتو وہ ملک وملت بدامنی وفساد کی آماجگاہ بن جاتی ہے۔لہذا بقائے امن کے لئے مذہب اسلام نے عد ل وانصاف کو متاع حرزجاں قرار دیا ہے۔
(٥)مساوات:-اسلام اورپیغمبر اسلام نےہرانسان کے حقوق یکساں قراردئیے۔امیرہویااغریب،مالک ہویاغلام،عربی ہویاعجمی،سید ہویاپٹھان،کالےہوں یاگورے کسی کے حقوق میں کوئی فرق مراتب نہیں۔
(٦)اخوت:-آپﷺ نے بےنظیراخوت ومودت مسلمانوں کے اندر قائم فرمائی۔اوس وخزرج میں صدیوں چلی آرہی عداوت کو اخوت و مودت میں تبدیل کردیا۔انصارومہاجرین کے درمیان مواخات کارشتہ قائم فرماکر پورے عالم کو انگشت بدنداں کردیااور آپﷺنے فرمایا:-“المسلم اخوالمسلم-“(مسلمان مسلمان کا بھائی ہے)-
(٧)امن :-مدنی زندگی میں آپﷺ سربراہ حکومت بھی تھے اور منتظم اعلی بھی۔اس بنیاد پرآپﷺ ہمیشہ جنگ پر صلح کو ترجیح دیتے تھے۔میثاق مدینہ کے منظر وپس منظرپرنظررکھنےوالےاچھی طرح جانتے ہیں کہ محسن انسانیت ﷺنے انسانی زندگی کےجو زریں اصول طے کئےہیں وہ ساری دنیا اورہرعہدکےلئے لائق عمل اورلائق تقلید ہیں۔

اسلام امن و سلامتی،مساوات وہمدردی کامذہب ہے۔بھوک وافلاس،آپسی رقابت،طرح طرح کے مصائب و مشکلات اور مصیبتوں میں گھری ہوئی اس دنیا کو امن وسلامتی کی راہ پر چلنےکےلئےمحسن انسانیتﷺ کی حیات طیبہ کے ہرگوشۂ خرمن سے حق اور سلامتی کا عطر کشید کرنا چاہئے۔حقیقت یہی ہے کہ پیغمبر اسلامﷺکی تعلیمات درد میں چورانسانیت کے لئےاصل نجات دہندہ ہیں۔اس کے باوجود اسلام کے نظام اوراس کی تعلیمات کو ٹارگیٹ کیا جائے،جابجااپنی تخریب کاری کو مذہب اسلام سے جوڑکر اس کے ماننے والے کو مطعون کیاجائے تو اس پروپیگنڈہ کا لطیف انداز میں جواب دیتے ہوئےاخوت ومحبت اور امن وامان کا درس دیتے رہیں۔کیونکہ وہ خالی ڈبہ ہیں اورہمارے پاس دین متین،کتاب ہدایت اور حیات نبوی کا قیمتی گوہر و سرمایہ ہے۔دشمنان اسلام کا کام ہی اسلام پر بےجا الزامات دھرنا اور بدنام کرنا پر ہمیں اپنا کام کرتے رہنا ہے ۔بقول قیس رامپوری:
اسے کہنے دو گر ہم کو وہ دہشت گرد کہتا ہے
ہمیں ہر موڑ پے ہر گام پے بدنام کر تا ہے
مگرہم کوانہیں شعلوں پےچل کردن بدلنے ہیں
کہ ہیرابھی ہنرکی آگ میں تپ کر نکھرتا ہے

مفتی محمد راغب عالم القاسمی/ مدرس مدرسہ اسلامیہ گیاری ارریہ،بہار
7903635978

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *