داماد

damad

پرانے زمانے سے دامادکوبڑاحقیر، نہایت فقیراورکوڑی کوڑی کامحتاج سمجھاجاتارہاہے، دامادکے ہاتھوں پراس کی منہ دکھائی سے ہی پیسہ رکھ کراس کی غربت اورحقارت پرمہرلگادی جاتی ہے، دامادسسرال چلاجائے تواورسسرال والے دامادکے گھرآجائیں توہرصورت میں دامادکاہاتھ ہی نیچے رہتاہے حالانکہ حدیث شریف میں اوپروالے ہاتھ کونیچے والے ہاتھ سے بہتروبرتربتایاگیاہے، داماداگراپنے سسرالی رشتہ داروں کے یہاں چلاجائے تووہاں بھی لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ ایک بے چارہ آگیاہے جس ہاتھوں پرجاتے وقت چندٹکے ضروررکھنے ہیں کیونکہ داماداپنی دامادی کے پہلے دن سے روپے پیسے پاتے پاتے سمجھ بیٹھاہے کہ دامادکی قسمت میں صرف دردرجاکر، اپنی اناکومجروح کرکے بس لینے سے مطلب ہے دینے والاچاہے قرض لے کردے، سودی رقم لے کردے، اپناپیٹ کاٹ کردے، دامادپراتنی بے حسی اوردماغی طورپراتنی بے کسی وبے بسی طاری ہوجاتی ہے کہ اس کے خواب وخیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ دینے والے کی مالی حیثیت اورپوزیشن کیسی ہے، دینے والااگراپنی اوقات کے مطابق دے تویہ صاحب اپنی اوقات پہ آجاتے ہیں حالانکہ ان صاحب نے رشتہ داری میں جاتے وقت سب سے سستے سیب، یاایک درجن میلے کچیلے کیلے خریدے تھے جومشکل سے چالیس پچاس روپے کے ہوتے ہیں اورواپسی میں میزبان نے اگرسودوسوروپے دئے تویہ پیسے کم محسوس ہوتے ہیں، توکیاآپ کی نیت وہاں سے کچھ پانے کی تھی؟ اگرنیت ایسی تھی تولاحول پڑھ کرخودپردم کرلیں کیونکہ اس طرح رشتہ داری نہیں چلتی، داماداپنی شادی میں بیوی کے ساتھ جہیزبھی پاتاہے اورقسم خداکی اس وقت توبہت ہی بے عزتی ہوتی ہے جب دامادکے آگے ایک رومال بچھاہوتاہے، عورتیں آتی ہیں اورجس طرح فقیرکے آگے پیسے ڈالے جاتے ہیں دامادکی جھولی میں بھی بالکل اسی طرح پیسے ڈالے جاتے ہیں، دس بیس پچاس سوکے نوٹ سلامی کے عنوان سے بے چارہ داماداکٹھاکرتاہے، اس کے ساتھی باراتی اسی دامادکی ساس کوتکتے ہیں اسی دامادکی سالیوں کوغلط نظروں سے دیکھتے ہیں اوردامادکی بے غیرتی تودیکھئے بالکل چپ سادھے نظرجھکائے سب کچھ دیکھتارہتاہے.

اس سے بھی عجیب بات آپ لوگ سنیں گے توبے غیرت دامادوں کی غیرت پررونے کوجی چاہے گا، ہوتایہ ہے کہ جب داماداپنی بیوی کولینے کے لئے اپنی سسرال جاتاہے تومن ہی من خیالی پلاؤپکاتارہتاہے کہ سسرال جاؤں گاتویہ کھاؤں گاوہ کھاؤں گاگویازندگی میں اپنے ماں باپ نے کبھی کچھ کھلایاپلایاہی نہ ہواورلالچ حرص، تمنااورامیدکے سہارے جب سسرال پہنچتاہے تواس کی غیرت اوراوقات کومدنظررکھتے ہوئی بڑی خاطرتوضع ہوتی ہے لیکن خدانخواستہ اگردال سبزی کے قبیل سے کچھ پکاہواسامنے آیاتودامادکی بھویں تن جاتی ہیں پیشانی پرسلوٹیں آجاتی ہیں، گردن بھی ڈھلک جاتی ہے اورایساسوچتاہے گویااس کے خفتہ وخوابیدہ ارمانوں کاخون ہوگیاہو، اب سنئے دوسراپہلو،سسرال میں بیوی کے چھوٹے چھوٹے بھائی بہنیں، بھتیجے اوردوسرے بچے سوچتے ہیں کہ دامادمحترم ان کے لئے بھی کچھ نہ کچھ توضرورلائے ہوں گے کم ازکم شیرینی اورفروٹ کی ٹوکری توساتھ ہی ہوگی لیکن ایساکچھ نہیں ہوتااگرغیرت زیادہ جاگی توغیرمعیاری اتنے کیلے یااتنے سیب بادل ناخواستہ لیں گے کہ وہاں بچوں کوایک ایک قاش یاایک ایک پیس مشکل سے ملے اورچاہتے ہیں کہ ناشتہ میں اس کے سامنے سلیمان بن عبدالملک جیساناشتہ پیش کیاجائے
خیرجی اپنی بیوی کولے کرجب چلیں گے توبے چاری بوڑھی ساس بے چارے دامادکی بے چارگی پرترس کھاکراضافی کھاناپکاکرساتھ رکھ دیتی ہے تاکہ گھرپہنچ کربھی دودن تک کافی ہوجائے یہ کتنی بڑی بے غیرتی کی بات ہے لاحول ولا قوۃ الاباللہ
اب آتے ہیں غیرت کے جنازے کی طرف، ساس اپنے دوپٹہ کے کونے میں کئی دن سے بندھے بندھے بند(گرہ) کوکھول کرچندٹکے دامادکے ہاتھ پررکھ دیتی ہے اوریہ صاحب بے شرمی کی آنکھیں کھول کرڈھٹائی کے ساتھ وہ دبے کچلے دس بیس یاسوپچاس کے نوٹ اپنی جیب میں منتقل کرلیتے ہیں۔

داماداگراصلی دامادہے توبالکل نہیں سوچتابالکل نہیں پوچھتاکہ ساسواماں، میرے سسرکی طبیعت کیسی ہے، آپ بھی بیمارلگتی ہیں کیاحال ہے، دواکہاں کی چل رہی ہے، دوائی کے لئے روپے پیسے کانظم کیسے ہورہاہے؟سوچئے! بیوی کی ماں آخرکاردامادکی بھی توماں ہے وہ بھی تومحرم ہے اوراس کے ساتھ بھی توصلہ رحمی کاشرعی تقاضاہے ،لیکن یہ باتیں اصلی دامادکہاں سوچتاہے البتہ وہ دامادضرورسوچے گاجواپنے سینہ میں دل رکھتاہے، جواپنی ساس کواپنی ماں اوراپنے سسرکواپناباپ سمجھتاہے، جو اپنے سرمیں بھیجانہیں دماغ رکھتاہے، جو شریعت کی تعلیمات اورنبی کی ہدایات پرعمل پیراہوتاہے
(جاری)

تحریر:مفتی ناصرالدین مظاہری، استاذمظاہرعلوم (وقف) سہارنپور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *