آؤ!اللہ کاشکراداکریں

allah-ko-yaad-karen

 

آج رمضان المبارک کی چودہویں شب ہے،رات کے تین بجے ہیں،میری آنکھوں سے نیندکوسوں دورہے،میرے کمرے کے متصل مظاہرعلوم کی مسجدکلثومیہ میں طلبہ کی تلاوت قرآن کی مسلسل آوازیں ایمان کی جوت کوروشن کررہی ہیں اوردل سے ان بچوں کے لئے دعانکل رہی ہے جوپورے دن روزہ رکھ کرصائم النہارکامصداق بنتے ہیں تورات بھر تہجداور تلاوت میں مشغول رہ کرقائم الیل کی صف میں نظرآتے ہیں۔

ممکن ہے میری بات سے آپ کواشکال ہولیکن مجھے یہ سچ بولنے میں کوئی خوف نہیں کہ ہماری قوم کواللہ تعالیٰ کاجتنا شکرادا کرناچاہئے اس کاعشرعشیربھی ادانہیں ہوتا۔لاک ڈاؤن کے خوفناک سناٹوں اورویران سڑکوں پرآج کی تاریخ میں صرف کتے نظرآتے ہیں،جنگل کے جانوروں کوشہروں کی خاموشیاں غلط فہمی میں مبتلاکررہی ہیں اوربہت سے ایسے واقعات نظرآجاتے ہیں کہ کہیں کوئی درندہ شہرمیں گھس آیاتوکہیں جنگل کاہاتھی آگیا،زندگی کی گاڑی رکی رکی،کاروبارحیات رکارکااورنظام عالم ٹھہراٹھہرالگتاہے،ستراسی سال پہلے کے بڑے بوڑھے جنہوں نے مظاہرعلوم میں تعلیم پائی تھی وہ کہتے تھے کہ ان کے زمانہئ طالب علمی میں مظاہرعلوم کی چھت سے ہمالیہ پہاڑنظرآتاتھاتوہم خوردسالوں کوان کہن سالوں کی باتیں لائق تعجب محسوس ہوتی تھیں لیکن زمانہ اپنے آپ کوبدلتارہتاہے،آج حالت یہ ہوگئی ہے کہ مئی کامہینہ نصف ہونے والاہے، ہندوستان کے شمالی حصہ میں اس مہینہ میں گرمیاں عروج پرہوتی تھیں،اخبارات گرمیوں کی شدت اورحدت بیان کرتے اوراڑتالیس ڈگری بتاتے تھے،اسکولی بچیاں دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے چھتریاں لے کراسکول جا یاکرتی تھیں، گھر،دفتراورکارخانے وفیکٹری کے ساتھ گاڑیوں میں بغیراے سی کے رہنامشکل تھالیکن آج اے سی کی ضرورت توکجارات اوردوپہرکوبغیرچادراورکمبل کے نیندنہیں آتی ہے۔

میں سہارنپورکے ریلوے اسٹیشن سے قریب ایک پولیس چوکی کے سامنے کھڑاہوں،چاروں طرف ہوکاعالم ہے،سناٹوں کی حکمرانی ہے،عام دنوں میں جہاں ادھرسے ادھرگزرنامشکل تھاآج وہاں چندکتے مٹرگشتی اوراٹھکیلیاں کرتے نظرآرہے ہیں، پورا ریلوے،قریب کابس اسٹیشن،ذراسافاصلے پرموجودگھنٹہ گھرہرجگہ ویرانی نظرآرہی ہے،دن کے ڈیڑھ بجے ہیں،اچانک میرے کانوں میں مؤذن کی صدائے توحیدگونجتی ہے،دھیان دیتاہوں توپتہ چلتاہے کہ اسٹیشن والی مسجدمیں اذان ظہرہورہی ہے۔سبحان اللہ!اللہ تیری شان، پوری دنیاکوگھروں میں قیدفرمادیاہے،آتش کدے بجھادئے گئے،بت کدوں میں خاک اڑرہی ہے،شراب وشباب کابازارویران ہوگیاہے،سوائے پولیس کی گشتی گاڑیوں کے کوئی بھی نظرنہیں آرہاہے،گرجاگھرہوں یاگردوارے،تمام قسم کے عبادت خانے باہرسے مقفل کردئے گئے ہیں،آج بھارت جیسے دارالکفر میں کفارکے عبادت خانوں سے بلندہونے والی مشرکانہ عبادات کی آوازیں سنے پوراایک چلہ ہوچکاہے،نہ گانے ہیں نہ ترانے ہیں،نہ نغمے ہیں نہ زمزمے ہیں،نہ راگ ورنگ ہے نہ گلِ خوش رنگ ہے،نہ شادیوں کی گونج ہے نہ بازاروں کی رونقیں ہیں لیکن اللہ تیری طاقت،تیری قوت،تیری مصلحت اورتیری عظت وکبریائی کے آگے کس کی چلی ہے؟تیرے فرمان عالی ”لمن الملک الیوم“کے آگے شاہوں تک کی گردنیں خم ہیں،عوام کی کیابساط ہے،میں کھڑے کھڑے سوچ رہاہوں یااللہ!میں اس وقت جس ملک میں کھڑاہوں اس کودنیاوالے بھارت اورانڈیاسے پکارتے ہیں جب کہ خودبھارتی لوگ ہندوستان کہتے ہیں،یہاں مسلمان اقلیت میں ہیں،ایک ارب تیس کروڑافرادکے اس ملک میں مسلمان صرف تیس کروڑکے قریب ہیں،ان تیس کروڑلوگوں میں وہ بھی ہیں جواپنے آپ کوسنی کہہ کربدعت پھیلارہے ہیں،وہ بھی ہیں جواپنے آپ کواہل حدیث کہہ کرنفرت کی کھیتی کررہے ہیں،وہ بھی ہیں جوتجددپسندی کاشکارہیں اوروہ بھی ہیں جونئی نبوت کااقرار کرکے ہمیشہ کے لئے کفرکی صفوں میں شمارہوگئے ہیں،میری حیرت بڑھ رہی اورمسرت دوچندہورہی ہے کہ اتنے بڑے ملک میں اتنی بڑی کثریت کے درمیان جب ان کے تمام عبادت خانوں میں دھول اڑرہی ہے اللہ!تیری شان کہ مساجدسے تیراپاک نام دن میں پانچوں مرتبہ بلدہورہاہے۔

تھوڑی دیرکے لئے رکئے اورسوچئے!سیاست کی منڈی میں ہماراکوئی بھاؤنہیں،زراعت کی وادی میں ہماراکوئی کردارنہیں،تجارت کے بازارمیں ہماراکوئی خریدارنہیں،قیادت کے اکھاڑے اوردنگل میں ہماراکوئی پہلوان نہیں، توپھر ہمارے پاس ہے کیا؟ایمان کادعویٰ ہم نہیں کرسکتے،طاغوت سے پنجہ آزمائی کی ہمت ہم نہیں کرسکتے،ظالموں کے پنجوں کومروڑنے اورشاطروں کی چالوں کوپلٹنے کاحوصلہ ہم میں نہیں،سیادت اورقیادت تاریخ کی کتابوں تک سمٹ کررہ گئی، تجارت اورزراعت کے باب میں ہماری شرکت صفرکے برابرہے،ہاں البتہ نوکری ہماراشعاربن گیا،مزدوری ہماری پہچان بن گئی،حمالی اورنقالی،ذلیل پیشے اوررذیل کام میں ہمارے لوگوں کی شرکت اتنی زیادہ ہوگئی کہ گویاہم اسی کام کے لئے پیداکئے گئے؟

Mufti-Nasiruddin

لوک ڈاؤن کے باوجودبھارت میں کسی مسجدکوباہرسے مقفل نہیں کیاگیا،اگراکادکاواقعات ایسے نظرآتے ہیں توقصورہمارانکلے گا،سوشل ڈسٹینسنگ کے خلاف ہماراکوئی بھی کام صرف ہمیں ہی متأثرنہیں کرتابلکہ ہماری تہذیب،ہماری سوسائٹی اورہمارے مذہب پرقدغن لگادیتاہے۔کیوں؟اس لئے کہ اسلام کادامن صاف وشفاف آئینہ کے مانندہے جس پرایک دھبہ بھی دورسے نظرآتاہے جب کہ کفر،غلاظت،گندگی،عیاری،مکاری،فریب،دجل،دسیسہ کاری،شراب وشباب،عریانی وفحاشی اورہرقسم کی معاشرتی بیماریوں کامجموعہ ہے وہ ایک ایسابحرظلمات ہے جس میں کیڑے مکوڑے،کالی بھیڑیں،جوئیں،کھٹمل اورہرقسم کی ہمرنگ چیزیں اپنے امتیازات کھودیتی ہیں،اسی لئے کفرکی بکواس اوربھونکنے پرمیڈیاکان نہیں دھرتاکیونکہ اس کوپتہ ہے کہ کتابھونکنے سے،بندرخوخیانے سے،گدہارینکنے سے،گھوڑاہنہنانے سے،بکری ممیانے سے،چڑیاچہچہانے سے،کبوترغٹرغوں سے،شیردہاڑنے سے،ہاتھی چنگاڑنے سے اوراونٹ بلبلانے سے بازنہیں آسکتا۔پتہ چلاآپ کو؟اسلام وہ بدروقمرہے جس میں ذراسادھبہ دورسے دِکھتاہے اورکفروہ کالی رات ہے جس میں ہاتھی بھی دکھائی نہیں دیتا۔اب سوچئے اورخوب سوچئے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سوسال پہلے فرمادیا تھاکہ کفرایک ملت ہے، کفرایک اکائی ہے،دنیاکے تمام کافربھائی بھائی،یورپ کایہودی،بھارت کامشرک،چین کابودھ،روس کادہریہ تمام براعظموں کے اسلام دشمن سب ایک ہیں حالانکہ ان کامذہب جداجدا،ان کارنگ الگ الگ،ان کاعقیدہ یگاں یگاں،ان کافلسفہ علیحدہ علیحدہ۔پھربھی الکفرملۃ واحدۃ۔یہ اتحاداوراجتماعیت اصلی نہیں نقلی ہے، بنیادی نہیں فروعی ہے، جب کبھی اسلام پربھونکنے والاکوئی کتاایک دفعہ بھونکتاہے توتمام کتے یک زبان اوریک لسان ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے ضمیراورخمیر میں بس ایک چیزبسی ہوئی ہے،اسلام سے دشمنی۔
تاریخ کاایک اصول ہے ”جن کے رتبے ہیں سوا، ان کوسواملتاہے“جوعزت دارہوتے ہیں وہ ذراسی تلخ بات سے بھی بے عزت ہوجاتے ہیں،خاندانی لوگوں کااوچھے لوگوں سے،گھریلوعورتوں کابازاری عورتوں سے،شریف کاخبیث سے، انسان کاشیطان سے کبھی کوئی میل اورکبھی کوئی جوڑہواہی نہیں ہے تومسلمان اورکفرایک ساتھ کیسے ہوسکتے تھے،کیااجالے اوراندھیرے کوکسی نے ایک ساتھ دیکھاہے؟کیابینااورنابیناایک جیسے ہوسکتے ہیں،کیابہرے اوربے بہرے کا یکساں ہوناممکن ہے؟جب نہیں! توپھرچھوڑدیجئے ”جمہوریت“ کے نعرے کو،طلاق دیجئے ”گنگاجمنی تہذیب“کی یکسانیت کو،دوری اختیارکیجئے شیطان اورشیطانی کارندوں سے:
دورنگی چھوڑکریک ہوجا
سراسرموم ہوجایاسنگ ہوجا
نبیوں کے سردار،انبیائے کرام کے امام عالی مقام،رسولوں کے پیشوا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا:من تشبہ بقوم فھومنہم،جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیارکی وہ ان ہی میں سے ہے،کفارکوراضی کرناچھوڑدیجئے کیونکہ وہ کبھی آپ سے راضی ہوہی نہیں سکتے حتی تتبع ملتہم،یہاں تک کہ تم ان ہی کی ملت میں شامل ہوجاؤ۔
بات دورچلی گئی لیکن گفتگومناسب ہوگئی،میں عرض کررہاتھاکہ بھارت میں ہماری کوئی شناخت اورہماراکوئی اثربھلے ہی نہ ہوپھربھی ہم سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکارہیں،ہم دن بھرگناہوں میں ملوث رہتے ہیں پھربھی ظاہری طورپرسب نہ سہی کچھ ہی سہی اللہ احکم الحاکمین کے سامنے سجدہ ریزتوہوتے ہیں،ہم میں سے اکثرکی شکلیں کفارکے مانندہیں پھربھی کچھ لوگ توایسے ہیں جن کی شکلیں نبی کی شکل سے ملتی جلتی ہیں،ہم میں سے اکثرلوگ اللہ کے کلام پاک کی تلاوت سے غافل ہیں پھربھی کچھ لوگ توایسے ہیں جوروزانہ کلام پاک کی تلاوت کررہے ہیں بس اسی بات پراللہ کی مہربانیاں ہم پربارش کے قطرات کے مانندبرس رہی ہیں۔
دنیالوک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان ہے،بڑے بڑے تاجروتجار حیران وسرگرداں ہیں،سبھی سوچ رہے ہیں کہ لوک ڈاؤن کی وجہ سے بھکمری پھیل جائے گی ان کاسوچناغلط بھی نہیں ہے لیکن اب آئیے اپنے بارے میں سوچتے ہیں،رمضان سے پہلے اوررمضان کے دوران اپنے کھانے پینے پرغورکرتے ہیں تولگتاہے کہ رمضان میں نعمتیں بڑھادی گئیں،روزانہ کی افطاری پردھیان دیجئے کتنی چیزیں لوک ڈاؤن کے باجوداللہ آپ کے دسترخوان پربھیج رہاہے؟ایک طرف دنیابھوک سے بلبلارہی اوردوسری طرف خداکے نام لیواروزے داروں کی رونقیں چیخ چیخ کرپکارہی ہیں فبای آلاءِ ربکما تکذبان۔ اے جن وانس! تم اللہ پاک کی کون کون سی نعمتوں کوجھٹلاؤ گے۔
اللہ پاک ہم سے چاہتاہے کہ ہم دنیاسے اپنارخ پھیرکراس کی طرف کرلیں کیونکہ ہماراقبلہ وکعبہ کفرنہیں اللہ ہے،ہم کعبہ کانہیں اللہ کاسجدہ کرتے ہیں اورجب تک سجدوں کایہ سلسلہ جاری ہے کسی کوفکرمندہونے کی حاجت اورضرورت نہیں۔
ہمیں سیراب رکھا ہے خدا کا شکر ہے اس نے
جہاں بنجر زمینیں ہوں انائیں شور کرتی ہیں
سہارنپورمیں لوک ڈاؤن کے ابتدائی مرحلہ میں ایک پولیس افسرعلمااورمفتیان کے مشورہ کے بعدمساجدمیں عام نمازجمعہ کی بندش کااعلان کرتے کرتے رونے لگتاہے،کیوں؟ وہ بھی جانتاہے کہ اللہ کے بندوں کواللہ کے گھروں سے دوررکھنے اوردوررہنے کے لئے پابندکیاجارہاہے جوفطرت سے بغاوت ہے،جواللہ کے اصول کے خلاف ہے۔ہوناتویہ چاہئے تھاکہ سبھی لوگوں سے کہاجاتاکہ سبھی لوگ اپنے رب کے آگے جھک جاؤاوراس بیماری سے نجات طلب کرو۔
یہ لوک ڈاؤن ہم مسلمانوں کے لئے کسی رحمت سے کم نہیں ہے،دن بھرروزہ رکھورات کوروکھی سوکھی جوکچھ اللہ کی طرف سے ملے شکراداکرکے کھاجاؤاوراگلے دن کی تیاریوں میں مصروف ہوجاؤ،نمازکاوقت ہوجائے تواپنے گھروں کومسجدبنالوکیونکہ ہمارے نبی نے فرمایاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے پوری زمین کومسجد بنادیاہے۔اس اعلان کے باوجودتمام مساجد الحمدللہ جاری ہیں،حکومت نے چارلوگوں کوسوشل ڈسٹینسنگ کے ساتھ نمازپڑھنے کی اجازت دی ہے جومشکل کے ان اوقات میں نعمت سے کم نہیں ہے ورنہ مندروں کودیکھومقفل،گرجاؤں کودیکھوبند،گردواروں پرنظر دوڑاؤتالے لگے ہوئے ہیں۔اللہ!آپ کی اس مہربانی پرہم آپ کاشکراداکرتے ہیں اوردعاکرتے ہیں کہ نمازوں اورسجدوں کے ذریعہ مساجدکی رونقیں واپس عطافرمادے۔
اب ہم آپ کوبتاتے ہیں کہ دنیامیں ہروقت اذان کی پکارہوتی ہے،اس پکارکے ذریعہ منٹ کے ہرسیکنڈمیں اللہ کی الوہیت اوررسول کی رسالت کااقراراوراعلان ہورہاہوتاہے چنانچہ مختلف اخبارات اورانٹرنیٹ کی خبروں کے مطابق انڈونیشیا کے مشرق میں واقع جزائر سے طلوع آفتاب کیساتھ ہی فجر کی اذان شروع ہوجاتی ہے اور بیک وقت ہزاروں مؤذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول کی رسالت کا اعلان کرتے ہیں۔مشرقی جزائر سے یہ سلسلہ مغربی جزائر تک چلاجاتاہے،ڈیڑھ گھنٹے بعد یہ سلسلہ سماٹرامیں شروع ہوجاتاہے اور سماٹراکے قصبوں اور دیہاتوں میں اذانیں شروع ہونے سے پہلے ہی ملایاکی مساجدمیں اذانوں کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے اور ایک گھنٹے بعد ڈھاکہ پہنچتاہے،رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں ابھی اذانیں ختم نہیں ہوتیں کہ کلکتہ سے سری لنکا تک فجر کی اذانیں شروع ہوجاتی ہیں،دوسری طرف یہ سلسلہ کلکتہ سے بمبئی تک پہنچتا ہے اورپورے ہندوستان کی فضاتوحیدورسالت کے اعلان سے گونج اٹھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سری نگر اور سیالکوٹ میں فجر کی اذان کاوقت ایک ہی ہے،سیالکوٹ سے کوئٹہ،کراچی اور گوادر تک 40منٹ ہیں اس عرصے میں فجر کی اذانیں مملکت خدادادپاکستان میں گونجتی رہتی ہیں، پاکستان میں یہ سلسلہ شروع ہونے سے پہلے افغانستان اور مسقط میں اذانیں شروع ہوجاتی ہیں، مسقط سے بغداد تک ایک گھنٹے کافرق ہے اس عرصے میں اذانیں سعودی عرب،یمن،متحدہ عرب امارات،کویت اور عراق تک گونجتی رہتی ہیں،بغداد سے اسکندریہ تک پھر ایک گھنٹے کافرق ہے،اس وقت شام،مصر،صومالیہ اور سوڈان میں اذانیں بلند ہوتی رہتی ہیں،اسکندریہ اور استنبول ایک ہی طول وعرض پر واقع ہیں،مشرقی ترکی تک ڈیڑھ گھنٹے کافرق ہے،اس دوران ترکی میں اذانیں شروع ہوجاتی ہیں،اسکندریہ سے طرابلس تک ایک گھنٹے کا فرق ہے، اس عرصے میں شمالی امریکہ،لیبیا اور تیونس میں اذانوں کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے،رپورٹ کے مطابق فجر کی اذان جس کاآغاز انڈونیشیا کے مشرقی جزائر سے شروع ہواتھاساڑھے نو گھنٹے کاسفر طے کرکے بحر اوقیانوس کے مشرقی کنارے تک پہنچتی ہے۔

فجر کی اذان بحر اوقیانوس تک پہنچنے سے پہلے مشرقی انڈونیشیا میں ظہر کی اذان کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے اور ڈھاکہ میں ظہر کی اذانیں شروع ہونے تک مشرقی انڈونیشیامیں عصر کی اذانیں بلندہونے لگتی ہیں،یہ سلسلہ ڈیڑھ گھنٹے میں بمشکل جکارتہ تک پہنچتاہے کہ مشرقی جزائر میں مغرب کی اذانوں کاسلسلہ شروع ہوجاتاہے،مغرب کی اذانیں ابھی سیلز سے سماٹراتک ہی پہنچتی ہیں کہ اتنے میں انڈونیشیاکے مشرقی جزائر میں عشاء کی اذانیں شروع ہوجاتی ہیں،رپورٹ کے مطابق کرہئ ارض پر ایک بھی سیکنڈ ایسا نہیں گزرتاہوگا جب سینکڑوں،ہزاروں بلکہ لاکھوں مؤذن اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول کی رسالت کااعلان نہیں کرتے۔یہ سلسلہ انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔
دیکھاآپ نے؟
اذان توحیدورسالت کی صدائے مسلسل ہے……اذان اللہ کی وحدانیت کانقارہئ خاص وعام ہے……اذان حیات کی علامت ہے ……اذان ممات کی جرس الرحیل ہے……اذان زندہ مذہب کی علامت ہے……اذان سونے والوں کے لئے اعلام بیداری ہے……اذان اللہ کے درسے بھٹکے افرادکے لئے پکارواپسی ہے……اذان نبی کی رسالت کاغلغلہ ہے……اذان اسلام کی اجتماعیت اوراخوت باہمی کاگھڑیال ہے……اذان خدابیزاروں کے لئے تازیانہئ خداوندی ہے……اذان فکراسلامی کی بین دلیل ہے……اذان بہروں اوربے بہروں کواللہ کی طرف واپس لانے کی سعی محمودہے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی

مفتی ناصرالدین مظاہری

استاذمدرسہ مظاہرعلوم وقف سہارنپور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *