رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیاں

nasir

سب ہی جانتے ہیں اورجانناہی چاہئے،جنھوں نے جان لیاوہ خوش نصیب ٹھہرے اورجنھوں نے نہیں جانا”بدنصیب“ ہی کہلائے، ہم سب کے نبی،پوری کائنات کے نبی،اجنہ اورفرشتوں کے نبی سچ کہوں تواٹھارہ ہزارمخلوق کے نبی فداہ ابی فداہ امی حضوررسالت مآب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاذکرمبارک افلاک کی وسعتوں اورکائنات کی نزہتوں میں یوں ودیعت اورپیوست ہے کہ کتنے ہی حالات آجائیں،تلاطم خیزموجیں،پہاڑوں کوکھسکادینے والے زلزلے اوردریاؤں کارخ پھیردینے والے طوفان کچھ بھی آجائے پرجس کانام زندہ رکھنے کااعلان خوداللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمادیااسے تورہناہی ہے ورفعنالک ذکرک کی گہرائی ناپی نہیں جاسکتی،شان رسالت کی شان رحمت پرجس قدرقربان ہواجائے کم ہے کیونکہ یہ کائناک سجائی ہی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے گئی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پراس قدرلکھاگیاہے کہ روئے زمین پراتناکسی کے بارے میں نہیں لکھاگیاچنانچہ مشہورعالم وداعی مولاناکلیم احمدصدیقی مدظلہ کتاب ”پیغمبر عالم“کے پیش لفظ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
”مدینہ منورہ میں اس حقیر نے ایک سیرت کی لائریری میں حاضری دی، وہاں ایک الماری میں ڈاکٹر عبد الجبار رفاعی کی تصنیف کی زیارت ہوئی، جس کا نام”معجم ماکتب عن الرسول و اہل البیت“ تھا جو جامع ازہر سے ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، شاید ۸۱/ جلدوں میں تھی، اس میں انہوں نے صرف سیرت پاک کی کتابوں کی فہرست اور انڈکس تیار کیا ہے، کتاب کا نام، زبان، مصنف کا نام، پتہ، کتنے صفحات پر مشتمل ہے، مطبوعہ ہے یا مخطوطہ اور کہاں سے دستیاب ہے اور چند ایک سطروں کا تعارف اس میں پیش کیاگیا ہے، نمبر شمار دیکھنے کے لئے اس حقیر نے آخری جلد کو اٹھایا تو آخری کتاب کا نمبر شمار 29774 (انتیس ہزار سات سو چوہتر تھا) اس میں ان کتابوں کا سیرت پاک کے موضوع پر ڈاکٹر عبد الجبار نے تعارف کرایا ہے، جن تک ان کی دسترس ہوئی، جن میں ایک کتاب ۵۸/ جلدوں میں بھی تھی، جس کو ڈاکٹر صاحب نے ایک ہی کتاب شمار کیا ہے، ایک کتاب عربی زبان میں کسی شام کے عالم کی تھی، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف نعلین شریفین(جوتوں) پر لکھی گئی عربی زبان کی کتابوں کا تعارف کرایا گیا ہے، صرف نعلین شریفین پر اس کتاب میں عربی زبان کی ۵۵/ کتابوں کا تعارف کرایا گیا ہے۔“
ظاہرہے اتنی تفصیل سے انسان اسی وقت لکھے گاجب اس کوبے انتہاعقیدت اورمحبت ہوگی اورمسلمان ہی وہ قوم ہے جو ہردورمیں اپنے نبی کی شان اورآن کے تحفظ کے لئے تمام تر قربانیوں کے لئے خود کوہروقت تیاررہتی ہے۔
سبھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سراپارحمت تھی،چاہے جمادات ہوں،نباتات ہوں،حیوانات ہوں،اجنہ ہوں،ملکوت ہوں جبروت ہوں،انسان ہوں یافرشتے ہوں،یہی نہیں زمین ہویاآسمان ہو،فضاہویاجنت اورجہنم ہی کیوں نہ ہوہرچیزکے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمت بناکربھیجے گئے ہیں اوریہی مطلب ہے ”وماارسلناک الارحمۃ للعٰلمین“کا۔
ایک صاحب قلم نے بڑی عمدہ بات لکھی ہے کہ:
”عرب کے خشک اور ریگستانی ملک میں سب سے کم یاب پانی کا ایک چشمہ ہے۔ دنیا کے فاتحین اور کشور کشاؤں کے حملوں سے یہ ملک جن اسباب کی بنا پر ہمیشہ محفوظ رہاہے ان میں ایک قوی سبب اس پانی کے وجود کی کمیابی بھی ہے چنانچہ یونانیوں، رومیوں اور ایرانیوں کی ہمتیں اسی لیے اس صحرا ئے لق ودق میں آباد قبائل کو فتح کرنے سے قاصر رہیں، غور کریں کہ اسلام کا فاتحانہ لشکر بھی اگر نبوت کی برکات سے مستفید نہ ہوتا تووہ اس مشکل کو کبھی حل کرسکتا تھا؟انبیائے عالم میں صرف ایک حضرت موسیٰ کی ذات ہے جن کے لیے ایک دفعہ چٹان کی رگیں پانی کی حوضیں بنیں لیکن رسول عربی کے لیے مشکیزہ کے چمڑا،گوشت وپوست کی انگلیاں،خشک چشموں کے دہانے،سوکھے ہوئے کنوؤں کی سوتیں،دہن مبارک کی کلیاں متعدد مرتبہ پانی کا خزانہ ثابت ہوئیں“۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیاں بھی سراپارحمت اورسراپامعجزہ تھیں،اللہ تعالی نے انسانوں کی ہدایت ورہبری کے لیے انبیاء ورسل کو بھیجا تو انہیں اپنی طرف سے کچھ نشانیاں بھی دیں تاکہ ان کی نبوت ورسالت کی تائید وتصدیق ہوسکے،جن میں ایک ظاہری اور ٹھوس نشانی وہ ہے جسے ہم معجزہ کہتے ہیں۔
لفظ معجزہ عجز سے بناہے جو قدرت کی ضد ہے یعنی وہ چیز جو حریف کو عاجز ودرماندہ کردے،اور علماء نے معجزہ کی تعریف یوں کی ہے کہ نبی کے ہاتھ پر چیلنج بن کر ظاہر ہونے والا خارق عادت امر جس کی نظیر ساری انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہو۔
حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پانی کی ایک چھاگل رکھی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا: لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھپٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس وضو اورپینے کے لئے پانی نہیں ہے، صرف یہی پانی ہے جو آپ کے سامنے رکھا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ سن کر) دستِ مبارک چھاگل کے اندر رکھا تو فوراً چشموں کی طرح پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے جوش مار کر نکلنے لگا چنانچہ ہم سب نے (خوب پانی) پیا اور وضو بھی کر لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس وقت آپ کتنے آدمی تھے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تب بھی وہ پانی سب کے لئے کافی ہو جاتا، جبکہ ہم تو پندرہ سو تھے۔(بخاری)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابو رافع یہودی کی (سرکوبی کے لئے اس کی) طرف چند انصاری مردوں کو بھیجا اور حضرت عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا، ابو رافع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلاف (کفار کی) مدد کرتا تھا اور سر زمین حجاز میں اپنے قلعہ میں رہتا تھا۔ (حضرت عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے ابو رافع یہودی کے قتل کی کارروائی بیان کرتے ہوئے فرمایا: جب) مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے تو پھر میں نے ایک ایک کرکے تمام دروازے کھولنا شروع کر دئیے یہاں تک کہ میں سیڑھی کے آخر تک پہنچ گیا۔ میں نے یہ خیال کرتے ہوئے اپنا پاؤں رکھا کہ میں زمین تک پہنچ گیا ہوں (اور سیڑھیاں ختم ہو گئی ہیں) چاندنی رات تھی میں گر گیا، میری پنڈلی ٹوٹ گئی، میں نے اپنی پنڈلی کو عمامہ سے باندھااور حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکرتمام ماجرا عرض کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ٹانگ پھیلاؤ (سیدھی کرو)۔ میں نے پاؤں پھیلا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس پر دستِ کرم پھیرا تو (ٹوٹی ہوئی پنڈلی جڑ کر ایسے ہو گئی کہ) گویا مجھے کبھی اس میں تکلیف نہیں ہوئی۔(بخاری)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور نماز عصر کاوقت آگیا تھا،صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وضو کیلئے پانی تلاش کیا نہ پایاحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے اپنا دست مبارک اس برتن میں رکھ کر لوگوں کو حکم دیا کہ اس سے وضو کریں میں نے دیکھا کہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے جوش ماررہا تھا۔ یہاں تک کہ تمام لوگوں نے وضو کیا۔(بخاری شریف)
ایک دفعہ حضوراکرم سفر میں تھے صبح کو آنکھ کھلی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھانی شروع کی توایک صحابی جماعت سے الگ ہوگئے،آپ نے جماعت میں شریک نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے جنابت کا عذر کیا چونکہ پانی نہ تھا اس لیے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کا حکم دیا اس کے بعد چند صحابہ کو پانی کی جستجو میں روانہ فرمایا،وہ لوگ چلے توایک عورت ملی جواونٹ پردومشکیزوں میں پانی لاد کر لیے جارہی تھی،ان لوگوں نے اس چشمے کا پتہ پوچھا تو اس نے کہا کہ اس جگہ پانی نہیں ہے پھر ان لوگوں نے دریافت کیا کہ تمھارے قبیلے اور چشمے کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ اس نے ایک دن اور ایک رات کی مسافت بتائی وہ لوگ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور آنحضرت نے ہاتھ سے مشکیزے کو مس فرمادیا توآپ کے دست مبارک کی برکت کی وجہ سے اس پانی کی مقدار میں اس قدر اضافہ ہوگیا کہ چالیس آدمیوں نے اس سے خوب سیراب ہو کر پانی پیا اور اپنے تمام مشکیزے اور برتن بھر لیے،اسکے بعد آپ نے کھجور اور روٹی کے ٹکڑے جمع کر کے اس عورت کو دیئے، وہ اپنے گھر آئی اورحیرت و استعجاب کے عالم میں اس نے اپنے قبیلے کے لوگوں سے کہا کہ میں نے سب سے بڑے ساحر یا اسکے معتقدین کے خیال میں ایک پیغمبر کو دیکھا ہے،آخر اس خاتون کے اثر سے یہ پورا قبیلہ مع اس عورت کے مسلمان ہوگیا۔
حضور اقدس مقام زور میں تھے کہ عصر کا وقت آگیا، صحابہ کرام نے پانی کی جستجو کی لیکن صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی ملا جب آپ کی خدمت میں پانی کابرتن پیش کیا گیا تو آپ نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور انگلیوں سے پانی کا فوارہ چھوٹنے لگا۔ یہاں تک کہ تقریباًتین سو آدمیوں نے اس سے وضو کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ کسی سفر میں تھے نمازکا وقت آیا تو صحابہ نے پانی تلاش کیا لیکن کہیں نہ ملا۔ ایک صحابی پیالے میں تھوڑاساپانی لائے، پہلے آنحضرت نے اس سے وضو کیا پھر پیالے پر آپ نے اپنی انگلیاں پھیلادیں پانی کی مقدار میں اس قدر برکت ہوئی کہ تقریباً ستر آدمیوں نے اس سے وضو کیا۔
ایک بار نماز کا وقت آیاتو جن لوگوں کا گھر مسجد کے قریب تھا وہ گھر کے اندر وضو کرنے کے لیے چلے گئے لیکن باقی لوگ بے وضو رہ گئے آنحضرت کی خدمت میں ایک برتن میں وضوکا پانی پیش کیا گیا آپ نے اس کے اندر ہاتھ ڈالنا چاہا تو اس کا دہانہ اس قدر تنگ نکلا کہ آپ کی ہتھیلیاں اسکے اندر نہ پھیل سکیں اس لیے آپ نے اپنی انگلیاں اسکے اندر ڈال دیں تواللہ تعالیٰ نے اس پانی میں اتنی برکت عطافرمائی کہ وہ پانی تقریباً۰۸/آدمیوں کے وضوکے لیے کافی ہوا۔
آپ نے ایک سفر میں حضرت جابر سے وضو کا پانی طلب فرمایا،انہوں نے قافلہ میں بہت ڈھونڈاپانی نہ ملا انصار میں ایک شخص تھے جو عام طورپر حضوراکرم کے لیے پانی ٹھنڈا کرکے رکھتے تھے،حضرت جابر نے آپ کی خدمت میں پانی نہ ملنے کی اطلاع کی تو آپ نے ان کو ایک انصاری کے پاس بھیجا لیکن انکے پاس بھی اس قدر پانی کم نکلا کہ اگر انڈیلا جاتا توبرتن کے خشک حصہ میں جذب ہوکر رہ جاتا۔حضرت جابر نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے اس برتن کو منگوابھیجا اور ہاتھ میں لے کر کچھ پڑھا اور اسکو طشت کے اندر رکھ کر حضرت جابر کو حکم دیا کہ بسم اللہ کر کے ہاتھ پر پانی گرائیں،حضرت جابر کا بیان ہے کہ میں نے پانی ڈالنا شروع کیا تو پہلے آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی امنڈاپھرطشت بھرگیا یہاں تک کہ سب لوگ پانی پی کر سیراب ہوگئے۔اس کے بعد آپ نے اس کے اندر سے ہاتھ نکال لیا تو طشت بھرا کا بھرا رہ گیا۔

حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک بار عصر کا وقت آگیا۔ صرف تھوڑا ساپانی بچاہوا رہ گیا تھا۔آپ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں تو ان کے اندر سے پانی جوش مارنے لگا، یہاں تک کہ چودہ سو آدمیوں نے اس سے وضو کیا اور سیراب ہوئے۔
حبان بن بح الصدائی کا بیان ہے کہ میری قوم حالت کفر میں تھی مجھے معلوم ہوا کہ حضور اکرم ان کے خلاف فوجی تیاریاں فرمارہے ہیں اور آپ کو اطلاع دی کہ میری قوم مسلمان ہے پھر میں نے رات بھر آپ کے ساتھ سفر کیا جب صبح ہوئی تومیں نے اذان دی آپ نے پانی کا برتن مجھے عطافرمایامیں نے اس سے وضو کیا پھر آپ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں تو انگلیوں کے درمیان سے چشمہ کی طرح پانی ابلنے لگا۔ آپ نے حکم دیا جوشخص چاہے اس سے وضو کرے۔
حضرت عبداللہ بن مسعو دؓ سے روایت ہے کہ ہم لوگ معجزات کو برکت سمجھا کرتے تھے،چنانچہ ایک بار ہم لوگ حضور اکرم کے ساتھ سفر میں تھے پانی کی کمی کی شکایت ہوئی تو آپ نے بچے ہوئے پانی کو طلب فرمایا۔وہ پانی ایک برتن میں آپ کو پیش کیا گیا آپ نے اس میں ہاتھ ڈال کر فرمایاکہ وضو کے مبارک پانی کی طرف دوڑو!خداکی طرف سے برکت ہوگی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی ابل رہا تھا۔
اسلام کی دعوت کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سربراہان مملکت،بادشاہان عالم اورسربرآوردہ لوگوں کوجوعوتی خطوط تحریرفرمائے،اپنے فرستادگان کے ذریعہ وہ خطوط بادشاہوں تک پہنچے اوربہتوں کی ہدایت اوررہبری کاذریعہ بنے میں کہہ سکتاہوں کہ تمام خطوط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے لکھے،ان خطوط کے لکھنے میں انگلیوں کااستعمال بہت ہی اہمیت رکھتاہے۔اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے نکلنے والے خطوط،اثراندازہونے والامضمون اوراسلام کی طرف راغب کرنے والااسلوب کہیں نہ کہیں اس میں آپ کی مبارک انگلیوں کابھی عمل دخل ہے اوراس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جسم کاایک اہم حصہ انگلیاں بھی ہیں اورانگلیاں بھی سراپامعجزہ ہیں۔
حضرت مولانا صدیق صاحب باندوی کامشہور شعر ہے:
انگلی سے اشارہ چاند کی جانب سارے انسان کرتے ہیں
انگلی سے چاند کے ٹکڑے کرنا سب کے بس کی بات نہیں
بہرحال اللہ تعالی نے انبیاء کرام کوتومختلف آیات ومعجزات دے کر دنیا میں مبعوث فرمایا اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سراپا معجزہ بناکر اس عالم فانی میں جلوہ گر فرمایا آپ کے جسم مبارک کے ہر عضو سے قدرت خداوندی کے جلوے ہویدا ہوئے،بے شمار آیاتِ بینات ومعجزاتِ باہرات ظہور پذیر ہوئے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا:
ہم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے،پانی کی قلت ہوچکی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا:کچھ پانی لاؤ،صحابہ کرام نے ایک برتن خدمت اقدس میں پیش کیا جس میں تھوڑاسا پانی تھا آپ نے اپنا دست مبارک برتن کے اندر رکھا پھر فرمایا: پاک کرنے والے برکت والے پانی کی طرف آؤ،برکت اللہ تعالی کی جانب سے ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پانی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگشتان مبارک کے درمیان سے ابل رہاہے اور جب آپ تناول فرماتے تو ہم کھانے سے تسبیح کی آوازسنتے۔
کیادنیا میں ایسا کوئی شخص پیداہواہے جس کے ہاتھوں میں اس قدر برکت ہو کہ ایسی بکری بھی دودھ دینے لگ جائے جس سے کسی نر نے جفتی بھی نہ کی ہو۔ یہ معجزہ بھی اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں رکھا تھاچنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں:
”میں مکہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر میرے پاس سے گذرے اور فرمایا: لڑکے تیرے پاس دودھ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، لیکن میں تو معتمد علیہ ہوں۔آپ نے فرمایا:کیا تیرے پاس ایسی کوئی بکری ہے جس سے نر نے جفتی نہ کی ہو؟میں نے ایسی بکری پیش کر دی۔ آپ نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو ان میں دودھ اتر آیا، آپ نے اسے برتن میں دوہا اور خود بھی پیا اور ابوبکر کو بھی پلایا۔پھر آپ نے تھنوں کو سکڑ جانے کا حکم دیا تو وہ سکڑ گئے۔(مسند احمد)
حضرت سلمان فارسیؓ کامشہورواقعہ جس میں ان کے یہودی آقا نے ان کی آزادی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ اس کے نخلستان میں کھجوروں کے درخت لگائے اور جب تک وہ پھل نہیں دیتے سلمان ان میں کام کرتا رہے گا۔چنانچہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے پودے لگائے تو اسی سال سب درختوں پر پھل آ گیا سوائے ایک درخت کے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ: اس کا ماجرا کیا ہے؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسے میں نے لگایا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکھاڑ کر خود لگایا تووہ بھی ایک ہی سال میں پھل دینے لگا۔(مسند احمد)
اگر حضرت موسی علیہ السلام نے بنو اسرائیل کی طلب پر پتھر پر لاٹھی مار ی اور بارہ چشمے جاری ہو گئے توبے شک یہ معجزہ ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی توسوچئے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اورپتھروں کے درمیان سے بے شمارنہریں اوردریاجاری فرمارکھے ہیں اس لئے حصرت موسی علیہ السلام کاپتھرپرعصاکامارنااورپانی کے بارہ چشموں کاجاری ہوجانابے شک معجزہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تعجب خیزواقعہ ہمارے نبی کاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے ہانی کے فوراے اورچشمے ابل پڑے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بھوک کے مارے کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ میں جگر تھام کر زمین پر گرجاتا اور کبھی کبھار بھوک کی شدت سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا،ایک روز میں اس راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ گزرتے تھے،چنانچہ میرے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے،آپ نے جس وقت مجھے دیکھا مسکرائے اور ہمارے چہرے اور دل کی کیفیت کو جان گئے،آپ نے ارشاد فرمایا: ابوہریرہؓ! ساتھ ساتھ چلے آؤ،میں پیچھے پیچھے ہو لیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر گئے، ہمیں بھی اجازت دے دی تو میں بھی اندر چلا گیا وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے میں دودھ دیکھا، دریافت فرمایا: یہ دودھ کہاں سے آیا؟ گھر والوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شخص کا نام بتایا جس نے دودھ کا ہدیہ بھیجا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہؓ! اہل صفہ کے پاس جاؤ اور ان کو میرے پاس بلا لاؤ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ کی یہ بات ہمیں گراں گزری کہ ایک پیالہ دودھ ہے اور میں بھوک سے نڈھال ہوں اور آپ مجھے پلانے کے بجائے فرمارہے ہیں کہ اہل صفہ کو بلالاؤ،میں نے دل میں کہا: اس دودھ سے اہل صفہ کا کیا بنے گا؟ میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ اتنا پی لوں کہ اس سے طاقت حاصل ہوجائے،جب وہ آئیں گے تو آپ مجھے ہی حکم دیں گے کہ انہیں دوں اور مجھے امید نہیں کہ اس دودھ کا کچھ حصہ بھی مجھے مل سکے گا۔ بھوک کی شدت کے باوجود حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاتھا،جس کے خلاف زبان نہیں کھولی جاسکتی تھی،کہتے ہیں میں سب کو بلا لایا،سب آکر بیٹھ گئے،اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ابوہریرہؓ! یہ پیالہ لو اور سب کو پلاؤ،میں نے پیالہ لیا اور پلانا شروع کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں ہر ایک کو دیتا جاتا،جب ایک شخص پی کر سیراب ہو جاتا، تو میں دوسرے کو وہی پیالہ دے دیتا، اس طرح جب سب شکم سیر ہو گئے تو میں نے اخیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیالہ پیش کر دیا،حضور نے اسے لے کر اپنے دست مبارک میں رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ابو ہریرہؓ! اب میں اور تم ہی باقی رہ گئے،میں نے عرض کیاکہ: بے شک آپ نے سچ فرمایا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور پیو، چنانچہ میں بیٹھ گیا اور دودھ پیا، آپ نے فرمایا: اور پیو میں نے پھر پیا، آپ بار بار فرماتے رہے پیو،اور میں پیتا رہا یہاں تک کہ میں نے کہا:”قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا،اب کوئی گنجائش اس کے لیے اپنے اندر نہیں پاتا“ آپ نے فرمایا: اچھا مجھے دکھاؤ، چنانچہ وہ پیالہ میں نے آپ کو دے دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ کرکے سب کا بچا ہواپی لیا۔

قارئین کرام کی طبیعتیں پڑھنے سے زیادہ اب دیکھنے کی طرف مائل ہورہی ہیں،کتابیں گردآلوداورموبائل شاندارکوَرْسے چمچمارہے ہیں،کتابوں کے گردوغبارکومہینوں جھاڑنے کی توفیق نہیں ملتی اورموبائل ہروقت اپنے دامن سے صاف کرتے نظرآتے ہیں،قرآن کریم طاق میں غبارآلودہورہاہے اورموبائل کی حفاظت کے لئے خوبصورت قسم کے بیگ خریدے جارہے ہیں۔اخبارات کیسے بھی ہوں سرخیاں دیکھ کررکھ دئے جاتے ہیں اورموبائل دیکھ کراپنی نظریں سینکی جارہی ہیں،کاغذات پرلکھی عبارتیں آپ کے علم میں اضافہ کاذریعہ ہوتی ہیں جب کہ موبائل اسکرین آپ کی نظراوردماغ اورجسم کوکمزور کرنے کاسب سے تیزرفتارذریعہ ہیں،ہم خودبربادہوتے ہیں اوراپنی اولاد کوبھی بربادکرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ایسے وقت میں نہ تفصیل کی گنجائش ہے نہ طبیعت راغب ہے، اس لئے آج کی نشست میں بس اتناہی،کبھی فرصت ملی توان شاء اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناخن،آنکھوں، پلکوں، بھنوؤں،تھوک اوربول وبرازتک کے واقعات وکرامات اورمعجزات پرتفصیل سے گفتگوکروں گا۔تب تک کے لئے دیجئے اجازت۔

مضمون نگار: مفتی ناصرالدین مظاہری

یہ بھی پڑھیں: حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاعہدطفولیت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *