دِ‌ل کی بَستی دِلّی کا بیان : توصیف خان

Dil-ki-basti-dilli-ka-bayaa

شاہ جہاں باد جس کا نام رفتہ رفتہ جہان آباد ہوا اور پھر اپنے قدیم نام دہلی یا دہلو کی مناسبت سے دہلی کہلایا۔ ایک عظیم تاریخی ارتقا کی یادگار اور ایک گراں بہار تہذیبی ورثے کا نشان ذی شان تھا۔ اس کے پر شکوہ گنبد، پر عظمت مینار، شاندار مسجدیں، خوب صورت مندر، عالی شان حویلیاں، پر رونق بازار، اوراق مصور کے مانند گلی کوچے، علم و فن کی روایتوں کے امین مدرسے، اور پر تقدس خانقاہیں۔ اس تمدنی مزاج اور تہذیبی روایت کا عکس پیش کرتے تھے۔ جس نے اس کی محراب زندگی کو قوس قزح کے مانند رنگا رنگ بنا دیا تھا۔ اسی دہلی سے علم و ادب کا سورج طلوع ہوا، جو اردو زبان و ادب کی پختہ رصدگاہ ہ قرار پائی۔ جہاں سے ستارۂ امتیاز کا ظہور ہوا اور میرو غالب کا پتا ملا۔

شاعروں نے دلی کو عالم کا سب سے منتخب شہر قرار دیا۔ طرح طرح سے اس شہر کے قصیدے پڑھے گئے۔  لیکن تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس شہر کی ساری رونقیں ختم کر دی گئیں۔ اس کے گلی کوچے ویران ہو گئے اور اس کی ادبی وتہذیبی مرکزیت ختم ہوگئی۔ بے حالی کے عالم میں لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے اور پورے شہر پر ایک مردمی چھا گئی۔

 دہلی کی تہذیب و تمدن کے اہرام کئی بار مسمار ہوئے، کئی بار تعمیر ہوئے۔ دلی کی ایک مخصوص تہذیب تھی جو عروج و زوال کے تانے بانے سے بنتی بگڑتی رہی۔ اس کے ہر بگاڑ میں ایک سنوار تھا۔ وہ دلی اور دلی والوں کی خوبیاں اب درگور اور درکتاب ہیں۔ آئیے اس دہلی کی سیر کے لئے کتابوں کا رخ کرتے ہیں، چنانچہ ریختہ نے ایسی کچھ کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن میں ہر دور کی دہلی سانسیں لے رہی ہے۔

دلی کی چند عجیب ہستیاں

https://rekhta.org/ebook-detail/dilli-ki-chand-ajeeb-hastiyan-ashraf-saboohi-ebooks-1?lang=ur

“دلی کی چند عجیب ہستیاں” اشرف صبوحی کے خاکوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ وہ بیسویں صدی کے نصف اول کے دبستان دلی کے ان نثرنگاروں میں سے ہیں جن کے بغیر تاریخ دلی مکمل نہیں ہو سکتی۔ آپ کا تعلق ڈپٹی نذیر احمد کے خاندان سے تھا۔ آپ مخصوص دہلوی تہذیب و ثقافت کے نمائندے ہیں۔  ان کی یہ کتاب پندرہ خاکوں پر مشتمل ہے۔  1857  کی جنگ آزادی میں رونما ہونے والے حادثات و واقعات کے پاداش میں ہندوستانیوں خصوصامسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ،اس کے باوجود کچھ افراد بطور یادگار ماضی رہ گئے تھے، انھیں کو اس کتاب میں موضوع بنایا گیا ہے۔ بظاہر تو وہ معمولی تھے لیکن ایک ثقافت پارینہ کی نمائندگی کرنے کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت حاصل کر گئے تھے۔ ان کی وضع داریاں ،خوبیاں اور اخلاق و اوصاف ایسے تھے جو ان کے بعد کی نسل کے لیے قابل تقلید نہیں تو قابل رشک ضرور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے متن میں ان گم گشتہ افراد و ثقافت کی یادیں بکھری ہوئیں ہیں۔ خاکوں کی زبان و اسلوب میں خاص دہلوی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ کتاب سب سے پہلی مرتبہ 1943 میں انجمن ترقی اردو دہلی کی طرف سے شائع ہوئی تھی۔ بعد میں مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی سے دوبارہ 1989 میں شائع کی گئی۔

مرقع دہلی

https://rekhta.org/ebook-detail/muraqqa-e-dehli-durga-quli-khan-ebooks?lang=ur

اس کتاب کا اصل متن فارسی میں ہے جس کی ترتیب و اردو ترجمہ کا کام اردو زبان کے ممتاز ادیب اور محقق خلیق انجم نے کیا ہے۔ اس کتاب میں اٹھارھویں صدی عیسوی کی دلی کی سماجی، سیاسی، ادبی، خانقاہی اور تہذیبی زندگی کی معلومات فراہم کی گئی ہے۔ یہ کتاب تقریبا تین سو سال پہلے کی دہلی کے عروج و زوال کی داستان ہے اور وہاں کے مشاہیر کی مختصر حالات کا نقشہ کھینچتی ہے۔ یہ کتاب مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر چھپ چکی ہے۔ کتاب کی ترتیب میں پہلے فارسی متن کو لیا گیا ہے اور پھر ان سب کا ترجمہ ایک ساتھ دیا گیا ہے۔ اس طرح کوئی صرف اردو کو ہی پڑھنا چاہے تو اسے فارسی متن کی قرائت کی چنداں ضرورت باقی نہ رہے گی۔ آخر میں ان افراد اور مقامات پر حواشی لکھے  گئے ہیں جن کا ذکر متن میں ہوا ہے۔ متن میں صوفیاء، مغنیان اور ادبا و شعراء کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کی گئی ہیں۔

دہلی کی آخری شمع

https://rekhta.org/ebook-detail/dehli-ki-aakhiri-shama-mirza-farhatullah-beg-ebooks-3?lang=ur

زیر نظر  کتاب 1857 سے دس سال قبل کی دہلی کا تہذیبی و معاشرتی مرقع اور ایک اہم ادبی دستاویز ہے۔ جب مغل تہذیب اور قدیم اقدار کے اثرات مٹ رہے تھے۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نے مٹتے ہوئے تہذیب و تمدن کو”دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ” جیسی تحریر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ اسی یادگار مشاعرہ کو “دہلی کی آخری شمع” کے نام سے دہلی اردو اکیڈمی نے پیش کیا ہے۔ جس پر صلاح الدین صاحب کا بیش قیمتی مقدمہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ دہلی کے اس یادگار مشاعرے کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں قلعہ معلی اور اس کے باہر مشاعروں کے کیا آداب تھے۔ دہلی کا یادگار مشاعرہ از اول تا آخر انتہائی شگفتہ انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔ یہ مشاعرہ مرزا فرحت اللہ بیک کے ستھرے ذوق کا آئینہ دار ہے۔

دہلی کے محاورے

https://rekhta.org/ebook-detail/dehli-ke-muhaware-syed-zameer-hasan-ebooks?lang=ur

شاہ عالم ثانی کے زمانے سے بہادر شاہ ظفر تک قلعہ میں جو زبان و بیان کے سانچے تیار ہوتے رہے انہیں پر دہلی والوں نے اکتفا کیا اور وہی زبان اس زمانے میں تقلید کا نمونہ بنی۔ دہلی ایک عالمی شہر تھا، دنیا جہاں کے لوگ بسے ہوئے تھے۔ زبان وبیان میں پوربیا اور پنجابی لہجہ بھی تھا لیکن فصیل بند شہریوں کا کما ل یہ تھا کہ انہوں نے کسی دوسری زبان کے سانچے کو قبو ل نہ کرتے ہوئے صرف قلعہ معلی کی ہی تقلید کی۔ چنانچہ قلعہ سے باہر مومن و غالب جیسے منفرد شاعر پیدا ہوتے رہے اور قلعہ کے اندر ذوق و ظفر سے ہوتی ہوئی قلعہ کی زبان کی روایت داغ تک پہنچ جاتی ہے۔ ان کے بعد اس زبان کے خوشہ چینوں میں منشی فیض الدین ، ناصرنذیر فراق، ڈپٹی نذیر احمد ، فرحت اللہ بیگ ، وزیر حسن ، راشد الخیر ی ، میرناصر علی ، مرزا محمود بیگ اورا س کتاب کے مصنف ہیں۔ ان کے یہا ں دہلی کی زبان وہاں کے محاروں کے ساتھ نظرآتی ہے۔ یہ کتاب دہلی کے محاوروں پر مشتمل ہے، اسی و جہ سے کہا جاتا ہے کہ باغ و بہار میں دہلی کی محاوراتی زبان استعمال ہوئی ہے۔ محاورہ کا زیادہ تر تعلق خواتیں سے ہوتا ہے یعنی گھر کی زبان سے نہ کہ بازار و شہر کی زبان سے۔ محاورات میں اس زمانے کی لفظیات اور زبان کے تہذیبی و استعاراتی استعمال کی مر وجہ صورتوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ الغرض دہلی کے محاورے سے اس زمانے کی تخلیقات سے مکمل استفادہ کیا جاسکتا ہے جس کے لیے یہ کتاب بہت ہی مفید ہے۔

دہلی کی یاد گار شخصیتیں

https://rekhta.org/ebook-detail/dehli-ki-yadgar-shakhsiyatein-imdad-sabri-ebooks?lang=ur

دہلی کی شخصیتوں اور دہلی پر بھی کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس کے باوجود بھی تشنگی باقی رہ جاتی ہے۔ کیونکہ شخصیات کی تاریخ کبھی مکمل نہیں ہو سکتی۔ زیر نظر کتاب “دہلی کی یاد گار شخصیتیں” امداد صابری کی مایہ ناز تصنیف ہے۔ امداد صابری ہندوستان  کے نامور صحافی، مجاہد آزادی، کونسلر اور دلی کے سابق نائب  ناظم (ڈپٹی میئر) تھے۔ انہیں تحریر و تقریر دونوں فن میں کمال حاصل تھا۔ ان کی مشہور تصنیفات میں تاریخ صحافت اردو، تاریخ آزاد ہند فوج، دہلی کی یادگار شخصیتیں اور فرنگیوں کا جال قابل ذکر ہیں۔ اس کتاب میں دہلی کے پہلوانوں، پٹے بازوں، پنجہ کلائی کے فنکاروں، خوشنویس، اطبا، موسیقار، دہلی کی سرائیں، دہلی کی باولیاں، دہلی کے مساجد، دہلی کے معززین، ادبی، صحافتی و علمی شخصیتوں کے حالات درج ہیں۔ جو مختلف اوقات میں لکھے گئے ہیں۔ کتاب میں انتساب واصف کمال صدیقی کے نام ہے اور ساتھ ہی  ابتداء میں مضمون کے ذریعے ان کی شخصیت کا خاکہ بھی کھینچا گیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۲ میں “دہلی کی یادگار ہستیاں” کے نام سے شائع ہوا تھا۔

پھول والوں کی سیر

https://rekhta.org/ebook-detail/phool-walon-ki-sair-mirza-farhatullah-beg-ebooks?lang=ur

مرزا فرحت اللہ بیگ کا عہد، مغلیہ کے آخری دور کی معاشرت اور تمدن کا دورتھا۔ اس لیے ان کی تحریریں بھی اس دور کی تہذیب و تمدن کی بہترین عکاس ہیں۔ زیر نظر کتاب “بہادر شاہ ظفر اورپھول والوں کی سیر” مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے دور میں “پھول والوں کی سیر” کی تفصیلات پر مبنی ہے۔ “پھول والوں کی سیر” دراصل سماجی ہم آہنگی کا ایک بے مثال تہوار ہے۔ جس کا آغاز ہندوستان میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے والد اکبر شاہ دوم نے کیا تھا۔ جو آج تک حکومتی سطح پر تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ دیگر تہواروں میں یہ  تہوار اپنی رنگا رنگی، ہندو مسلم اتحاد کے باعث منفرد اور اہم ہے۔ یہ ایک تاریخی میلہ ہے جس کو مورخین سیر گل فروشا ں بھی کہتے ہیں۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے ہندو اور مسلمان کے مابین مودت و محبت اور قومی یک جہتی کو فروغ دینے کی غرض سے اس تہوار کے انعقاد میں خاص دلچسپی لی۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنی اس کتاب میں بہادر شاہ ظفر کے دور حکومت میں انعقاد ہونے والے اس تہوار کی خوب عکاسی کی ہے۔

مزارات اولیاء دہلی

https://www.rekhta.org/ebooks/mazarat-e-auliya-e-delhi-delhi-ke-auliya-ke-mukhtasar-halaat-mohammad-alam-shah-faridi-ebooks?lang=ur

دہلی  ہمیشہ سے ہی صوفیہ کا مسکن  رہی ہے اس لئے اس شہر پورنور میں  صوفیہ کی ایک بڑی جماعت آسودہ خاک ہے۔ کتاب ہذا میں تقریبا  ایک سو اسی صوفیہ کبار کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ شہر مزارات صوفیہ سے بھرا پڑا  ہے اور صوفیہ کی ایک بڑی جماعت یہاں پر آرام فرما رہی ہے ۔ اگرچہ بہت سے صوفیہ کے مزارات کی نشاندہی بھی ممکن نہیں، زمانے کے الٹ پھیر نے ان کی مزارات کو نیست و نابود کر دیا ہے مگر جو موجود ہیں ان کی حفاظت بھی ایک کار عظیم ہے ۔ نظام الدین اولیا سے لیکر بختیار کاکی تک ااور خسرو سے لیکر نصیر الدین چراغ تک ، محدث دہلوی سے لیکر سرمد شہید تک نہ جانے کتنے صوفیہ یہاں پر آسودہ خاک ہیں۔ یہ کتاب انہیں صوفیہ کی نشاندہی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اس کے علاوہ دہلی مرحوم کی مکمل تاریخ، اس کے بسنے اور اجڑنے کی دلخراش داستانیں، دہلی کی عجیب و غریب ہستیاں، قلعہ معلی کے دلچسپ قصے، دہلی کی رسومات، وہاں کی تاریخی عمارتیں، دہلی  کی ادبی محفلیں، وہاں کے مشاعرے اپنے دلچسپ دہلوی لب و لہجے میں ریختہ کے مخصوص “شہر دہلی” کلکشن میں موجود ہیں۔ استفادہ کے لئے لنک حاضر ہے۔

https://www.rekhta.org/ebooks?nav=must-read-books-on-shahr-e-dilli&sort=popularity-desc&pageIndex=1

تبصرہ نگار: توصیف خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *